Posts

کوئی آوارہ ہے یا بھٹکی ہوئی ہے زندگی - موت کی نظروں میں جو کھٹکی ہوئی ہے زندگی(7 اشعار/ 3 پوسٹر)

Image
7 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book ZINDGI حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "زندگی" کی ایک غزل کے 7 شعروں کے 3 پوسٹر کوئی آوارہ ہے یا بھٹکی ہوئی ہے زندگی موت کی نظروں میں جو کھٹکی ہوئی ہے زندگی شور سنتے تھے بہت لیکن حقیقت اور ہے ایک ہی تو سانس پر اٹکی ہوئی ہے زندگی کربلا کی خاک پر روندی گئی ہے اور کبھی نفرتوں کی دار پر لٹکی ہوئی ہے  دھوپ میں ٹھنڈک،تمازت گھل گئی ہوں جس طرح  ایسے سارے دہر میں چھٹکی ہوئی ہے زندگی رنگ و خوشبو کا کوئی جادو اسی کے دَم سے زندگی گلشنِ ہستی میں جو چٹکی ہوئی ہے زندگی یہ تو بس موّاج لہروں کا انوکھا کھیل ہے کب کسی ساحل،کسی تٹ کی ہوئی ہے زندگی اور تھے حیدر جو اس کی چاہ میں مرتے رہے ہم نے الٹے ہاتھ سے جھٹکی ہوئی ہے زندگی 7 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 6th poetry book ZINDGI ZINDGI is online at these links https://archive.org/details/ZINDGI/mode/2up اور https://drive.google.com/file/d/0B_xQnk75odj9RG9MbkhjbUVqUGM/vie

اظہار کی اِس دل نے اس بار تو حد کر دی - ہر بات مگر اُس نے اِس بار بھی رد کر دی (6اشعار/2پوسٹر)

Image
6 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book ZINDGI حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "زندگی" کی ایک غزل کے 6 شعروں کے 2 پوسٹر اظہار کی اِس دل نے اس بار تو حد کر دی ہر بات مگر اُس نے اِس بار بھی رد کر دی جو کام نہ ہونا تھا،وہ ہو ہی گیا آخر کچھ ہم نے بھی ہمت کی،کچھ اس نے مدد کر دی اس درد سمندر میں اک جزر تھا مدّت سے اس درد سمندر میں کیوں آپ نے مد کر دی جو مانتے ہیں دل سے وہ کھل کے نہیں کہتے یاروں کے رویے نے توثیقِ حسد کر دی اعداد ہوئے غالب تو آج کی دنیا نے ہر حرف کی حرمت ہی اب زیرِ عدد کر دی وا گود رکھی اس نے،بیداری رہی جب تک جب نیند کا وقت آیا ،گود اس نے لحد کر دی نکلے تھے ازل سے جواک لہرمیں،سو ان کی قسمت نے مسافت بھی تاحدِ ابد کر دی تھے زیر و زبر دونوں،اک زیر ہوا آخر پھر آخری لمحے میں اس زیر نے شد کر دی شدت کا رویہ ہی عادت سی رہی اس کی نفرت بھی بلا کی تھی،چاہت بھی اشد کر دی جب عشق کیا حیدر معیار بنا ڈالا اور ایسی محبت کی،دنیا میں سند کر دی  6 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 6th poetry book ZINDGI ZINDGI is online at these links https://archive.org/d...

دردِ دِل کی ہمیں اب کے وہ دوائی دی ہے- اپنے دربار تلک سیدھی رسائی دی ہے (9 شعر/ 3 پوسٹر)

Image
   9 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book ZINDGI حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "زندگی" کی ایک غزل کے 9 شعروں کے 3 پوسٹر دردِ دل کی ہمیں اب کے وہ دوائی دی ہے اپنے دربار تلک سیدھی رسائی دی ہے اک جھماکا سا ہوا روح کے اندر ایسے نوری برسوں کی سی رفتار دکھائی دی ہے کیسے زنجیر کا دل ٹوٹا یہ اُس نے نہ سُنا وقت نے قیدی کو بس فوری رہائی دی ہے اک نئی لمبی مسافت کا زمیں زاد کو حکم اور اس بار مسافت بھی خلائی دی ہے جب بھی جانا ہے پلٹ کر نہیں دیکھیں گے کہیں اپنے اندر سے یہ آواز سنائی دی ہے جتنے دکھ درد تھے،دل میں ہی ڈبو ڈالے ہیں ہم نے فریاد کبھی کی نہ دُہائی دی ہے اُن فقیروں کے لیے ایک خدا کافی ہے اہلِ دنیا کو جنہوں نے یہ خدائی دی ہے اک عجب عالمِ برزخ میں ہی رکھا اس نے نہ کبھی قرب ہی بخشا نہ جدائی دی ہے کسی الزام کا اقرار بھی حیدر نہ کیا نہ بریت کے لیے کوئی صفائی دی ہے 9 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 6th poetry book ZINDGI ZINDGI is online at these links https://archive.org/details/ZINDGI/mode/2up اور https://drive.google.com/file/d/0B_xQnk75odj9RG9Mbkh...

میری دھرتی سے پرے، کوئی بلاتا ہے مجھے - کہکشاؤں کی عجب راہ دکھاتا ہے مجھے (8 اشعار کی غزل کے 3 پوسٹر)

Image
8 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book UMR e GUREZAN,   حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "عمرِ گریزاں" کی ایک غزل کے 8 اشعار کے تین پوسٹر میری دھرتی سے پرے، کوئی بلاتا ہے مجھے کہکشاؤں کی عجب راہ دکھاتا ہے مجھے چشمِ نَم کے وہ زمانے تو کبھی کے بیتے لیکن اک تارا وہی قصے سناتا ہے مجھے جس نے آمادہ کیا ترکِ تعلق کے لئے اب وہی دل ہی کچوکے سے لگاتا ہے مجھے ماں! ترے بعد سے سورج ہے سوا نیزے پر بس تری ممتا کا اک سایہ بچاتا ہے مجھے اِس زمانے کے خداؤں نے بگاڑا ہے مگر میرے اندر کا اک انسان بناتا ہے مجھے کس وفا سے وہ ابھی تک ہے ستم پر قائم کس محبت سے ابھی تک وہ جَلاتا ہے مجھے  صرف یہ عمرِ گریزاں ہی نہیں کرتی اُداس میرا ہنستا ہوا بچپن بھی رُلاتا ہے مجھے جانے کیا بات ہے اُس شخص کے دل میں حیدر جو ابھی تک وہ بتا ہی نہیں پاتا ہے مجھے 8 couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book Umre Gurezan UMR e GUREZAN is online at many links...here are the 2 links to reach the book. https://drive.google.com/file/d/0B_xQnk75odj9SW9EbW9DMWUxZEU/view?usp=drivesdk&resource...

جب سرکار کی جانب سے منظوری ہوتی ہے (5 اشعار کے 2 پوسٹر)

Image
couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book UMR e GUREZAN,   حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "عمرِ گریزاں" کی ایک غزل کے پانچ اشعار کے دو پوسٹر جب سرکار کی جانب سے منظوری ہوتی ہے فاصلہ کتنا بھی ہو عین حضوری ہوتی ہے جذب کے عالم میں پہنچا بندہ جو کہہ جائے بات خدائی ہوتی ہے سو پوری ہوتی ہے باہر کے شیطان خرابی سی کر جاتے ہیں ورنہ ہر انسان کی فطرت نوری ہوتی ہے دل میں بسنے والے دُور بھلا کب ہوتے ہیں دنیا کی نظروں میں بے شک دُوری ہوتی ہے ویسے تو ہے عزت والا یہ منصب حیدر عشق میں لیکن ذلّت کی مزدوری ہوتی ہے  5couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book Umre Gurezan UMR e GUREZAN is online at many links...here are the 2 links to reach the book. https://drive.google.com/file/d/0B_xQnk75odj9SW9EbW9DMWUxZEU/view?usp=drivesdk&resourcekey=0-urfZyWjXrVyGSJj_EEwEBA Umre Gurezan is also available at this Archive link https://archive.org/details/UmreGurezaN/mode/2up

کچھ. قید. سنا دیتے / دکھ حق تھا غریبوں کا (2 ماہیوں کا پوسٹر)

Image
2 Mahiyas by Haider Qureshi from his poetry book MOHABBAT KE PHOOL حیدرقریشی کے ماہیوں کے مجموعہ "محبت کے پھول" سے دو ماہیوں کا پوسٹر  کچھ.  قید. سنا   دیتے  عشق کے مجرم کو کوئی  تو. سزا   دیتے …………… دکھ حق تھا غریبوں کا  تم سے گلہ کوئی  نہ ہی شکوہ نصیبوں کا   Haider Qureshi's 2 Mahiyas from his poetry book Mohabbat ke Phool Mohabbat ke Phool is online at many links...here are the 2 links to read the book https://archive.org/details/MohabbatKayPhool/mode/2up  اور https://drive.google.com/file/d/0B_xQnk75odj9MzdCeDBhaDh0eUk/view?usp=drivesdk&resourcekey=0-9HldKQfp27mNkvoRBJEUfA

عروج کیا ہے، زوال کیا ہے - خوشی ہے کیا اور ملال کیاہے (9 شعروں کے تین پوسٹر)

Image
  9 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book ZINDGI حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "زندگی" کی ایک غزل کے 9 شعروں کے 3 پوسٹر عروج کیا ہے، زوال کیا ہے خوشی ہے کیا اور ملال کیاہے  یہ گردشِ ماہ و سال کیا ہے  زمانے! تیری یہ چال کیا ہے  بھلے ہو وقتی اُبال چاہت مگر یہ وقتی اُبال کیا ہے ہوس تو بے شک ہوس ہی ٹھہری  پہ جستجوئے وصال کیا ہے ہے دل کوئی بے کنار صحرا کہ آرزؤں کا جال، کیاہے حقیقتیں تو فریب نکلیں جہانِ خواب و خیال کیا ہے سوال جو اتنے کر رہے ہو تمہارا اصلی سوال کیا ہے ہر ایک رنجش بھلا چکے ہو تو دل کے شیشے میں بال کیا ہے خدا ہے مشکل کُشا تو حیدر کوئی بھی کارِ محال کیا ہے 9 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 6th poetry book ZINDGI ZINDGI is online at these links https://archive.org/details/ZINDGI/mode/2up اور https://drive.google.com/file/d/0B_xQnk75odj9RG9MbkhjbUVqUGM/vie