چھوڑ گئے سب تجھ کو تیری غزلوں والے لوگ - میرے شاعر سب کے دکھ اب تنہا بیٹھا بھوگ (5اشعار کے 2 پوسٹر)
5 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book SULAGTE KHAWAB in 2 posters حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "سلگتے خواب" کی ایک غزل کے پانچ اشعارکے 2 پوسٹر چھوڑ گئے سب تجھ کو تیری غزلوں والے لوگ میرے شاعر سب کے دکھ اب تنہا بیٹھا بھوگ عشق اور نوکری مل کے دونوں چُوس گئے ہیں تجھ کو تُو تو بس اب ایسے ہے جیسے گنے کاپھوگ اُس سے شکوہ کرنے کا توحق ہی نہیں بنتا ہے پتھر کو معلوم ہو کیسے آئینے کا روگ اپنے ارمانوں کو خود ہی کفناؤ،دفناؤ خود ہی من کو قتل کرو اور خود ہی مناؤ سوگ میں کوئی رام نہ گوتم‘ حیدر اک شاعر آوارہ پھر یہ کیسی خواہش ہے جنگل میںلے لوں جوگ 5 couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book SULAGTE KHAWAB Sulagte Khawab is online at many links...here are the 2 links to reach the book. https://archive.org/details/SulagtayKhawab/Sulagtay%20Khawab%20%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C/mode/2up اور https://docs.google.com/file/d/0B_xQnk75odj9Z3IxanRuSWV5dXM/edit?pli=1&resourcekey=0-yRzJVGcl7Jl0HmqrslR2cQ