Posts

چھوڑ گئے سب تجھ کو تیری غزلوں والے لوگ - میرے شاعر سب کے دکھ اب تنہا بیٹھا بھوگ (5اشعار کے 2 پوسٹر)

Image
5 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book SULAGTE KHAWAB in 2 posters  حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "سلگتے خواب" کی ایک غزل کے پانچ اشعارکے 2 پوسٹر چھوڑ گئے سب تجھ کو تیری غزلوں والے لوگ میرے شاعر سب کے دکھ اب تنہا بیٹھا بھوگ عشق اور نوکری مل کے دونوں چُوس گئے ہیں تجھ کو تُو تو بس اب ایسے ہے جیسے گنے کاپھوگ اُس سے شکوہ کرنے کا توحق ہی نہیں بنتا ہے پتھر کو معلوم ہو کیسے آئینے کا روگ اپنے ارمانوں کو خود ہی کفناؤ،دفناؤ خود ہی من کو قتل کرو اور خود ہی مناؤ سوگ میں کوئی رام نہ گوتم‘ حیدر اک شاعر آوارہ  پھر یہ کیسی خواہش ہے جنگل میںلے لوں جوگ 5 couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book SULAGTE KHAWAB Sulagte Khawab is online at many links...here are the 2 links to reach the book. https://archive.org/details/SulagtayKhawab/Sulagtay%20Khawab%20%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C/mode/2up  اور https://docs.google.com/file/d/0B_xQnk75odj9Z3IxanRuSWV5dXM/edit?pli=1&resourcekey=0-yRzJVGcl7Jl0HmqrslR2cQ  

اسے پھر اگلے سفر کے لیے اُبھرنا ہے - وہ جس کو شام کی دہلیز پر اُترنا ہے (6 اشعار کےدو پوسٹر)

Image
6 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book SULAGTE KHAWAB in 2 posters  حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "سلگتے خواب" کی ایک غزل کے چھ اشعارکے 2 پوسٹر اُسے پھر اگلے سفر کے لیے اُبھرنا ہے  وہ جس کو شام کی دہلیز پر اُترنا ہے 

روگ سمجھا ہے کوئی کب کسی دیوانے کے آدھے ہم تیرے ہیں، آدھے کسی بے گانے (4 اشعار کے 2 پوسٹر)

Image
4 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book SULAGTE KHAWAB in 2 posters  حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "سلگتے خواب" کی ایک غزل کے چار اشعارکے دو پوسٹر روگ سمجھا ہے کوئی کب کسی دیوانے کے  آدھے ہم تیرے ہیں، آدھے کسی بے گانے کے دل نے کچھ اپنے ہی معیار بنائے رکھے زخم دینے کے قرینے ہوں کہ سہہ جانے کے ہم کہاں کے کوئی سقراط تھے پر ہم پر بھی آئے الزام نئی نسل کو بہکانے کے وہ کہ نازاں رہے جن باتوں پہ، اب دیکھ بھی لیں آگئے وقت انھیں باتوں پہ پچھتانے کے  ہم بھی اُٹھے ہیں نیا حوصلہ لے کر حیدر نئے انداز ہیں اُس کے بھی ستم ڈھانے کے 4 couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book SULAGTE KHAWAB Sulagte Khawab is online at many links...here are the 2 links to reach the book. https://archive.org/details/SulagtayKhawab/Sulagtay%20Khawab%20%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C/mode/2up  اور https://docs.google.com/file/d/0B_xQnk75odj9Z3IxanRuSWV5dXM/edit?pli=1&resourcekey=0-yRzJVGcl7Jl0HmqrslR2cQ  

وزیر‘ فِیل اور شاہ پھر سے بدَل رہا ہے - وہ چال شاید اب اور ہی کوئی چَل رہا ہے (4 اشعار کے 2 پوسٹر)

Image
4 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book SULAGTE KHAWAB in 2 posters  حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "سلگتے خواب" کی ایک غزل کے چار اشعارکے دو پوسٹر وزیر‘ فِیل اور شاہ پھر سے بدَل رہا ہے وہ چال شاید اب اور ہی کوئی چَل رہا ہے  بچی ہوئی ہے بس اب تو خاک اور راکھ باقی کہ اب نہ رسی نہ کوئی رسی کا بل رہا ہے چلو پھر ابلیس کو بلا ؤ اسے بتاؤ جو ابنِ آدم پھسل گیا تھا سنبھل رہا ہے  کچھ اِس طرح ڈوبنے لگی ہے یہ دل کی دھڑکن کہ جیسے دھیرے سے کوئی گھر سے نکل رہا ہے کسی کے جَور وستم کی حیدر کرامتیں ہیں بجھا ہوا ہے یہ دل مگر پھر بھی جل رہا ہے ٭٭   4 couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book SULAGTE KHAWAB Sulagte Khawab is online at many links...here are the 2 links to reach the book. https://archive.org/details/SulagtayKhawab/Sulagtay%20Khawab%20%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C/mode/2up  اور https://docs.google.com/file/d/0B_xQnk75odj9Z3IxanRuSWV5dXM/edit?pli=1&resourcekey=0-yRzJVGcl7Jl0HmqrslR2cQ

رات کی رانی مہکی کہ تم آئے تھے - دونوں عالم مہکتے رہے رات بھر (ایک غزل کے 4 اشعار کے دو پوسٹر)

Image
4 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book SULAGTE KHAWAB in 2 posters  حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "سلگتے خواب" کی ایک غزل کے چار اشعارکے دو پوسٹر مکمل غزل کا متن دو پرندے چہکتے رہے رات بھر  اور بھرتے ‘ چھلکتے‘ رہے رات بھر رات کی رانی مہکی کہ تم آئے تھے دونوں عالَم مہکتے رہے رات بھر سیدھے رستے کو پانے کی دھن میں مگن کس طرح ہم بہکتے رہے رات بھر سرد جسموں میں بھی جان سی آگئی ایسے جذبے دہکتے رہے رات بھر رات بھر وصل کا چاند چمکا کیا دل سمندر ہُمکتے رہے رات بھر زندگی! دیکھ بجھتے ہوئے لوگ ہم بزمِ جاں میں چمکتے رہے رات بھر حاصلِ عمر ٹھہرے ہیں لمحے وہی جن میں حیدر بھٹکتے رہے رات بھر   4 couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book SULAGTE KHAWAB Sulagte Khawab is online at many links...here are the 2 links to reach the book. https://archive.org/details/SulagtayKhawab/Sulagtay%20Khawab%20%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C/mode/2up  اور https://docs.google.com/file/d/0B_xQnk75odj9Z3IxanRuSWV5dXM/edit?pli=1&resourcekey=0-yRzJVGcl7Jl0HmqrslR2cQ

اگرچہ پیار کا اب کوئی سلسلہ بھی نہیں - پر اس سے ترکِ تعلق کا حوصلہ بھی نہیں (6 اشعار کے 3 پوسٹر)

Image
6 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book SULAGTE KHAWAB in 3 posters  حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "سلگتے خواب" کی ایک غزل کے چھ اشعارکے تین پوسٹر اگرچہ پیار کا اب کوئی سلسلہ بھی نہیں  پر اس سے ترکِ تعلق کا حوصلہ بھی نہیں کچھ اپنے گرد حصار ایسے کھینچ بیٹھا ہوں کہ اب خود اپنے نکلنے کا راستہ بھی نہیں مسافتوں میں ہوں کس پیکرِ ہوا کے لئے جو کوئی رنگ نہیں ہے کوئی صدا بھی نہیں مری اُداسیاں ہیں قرض اُس کی چاہت پر اک ایسا قرض کہ جو واجب الادا بھی نہیں میں جانتا ہوں کہ یہ وقتِ استجابت ہے مگر یہ کیا کہ لبوں پر کوئی دعا بھی نہیں تمام روشنیاں، خوشبوئیں بجا حیدر پر اُس گلاب بدن سا کوئی ہوا بھی نہیں ٭٭٭   6 couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book SULAGTE KHAWAB Sulagte Khawab is online at many links...here are the 2 links to reach the book. https://archive.org/details/SulagtayKhawab/Sulagtay%20Khawab%20%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C/mode/2up  اور https://docs.google.com/file/d/0B_xQnk75odj9Z3IxanRuSWV5dXM/edit?pli=1&resourcekey=0-yRzJVGcl7Jl0H...

طلوعِ صبح سے پہلے شگافِ نیل ہونا ہے - یہ منظر سامنے کا جلد ہی تبدیل ہونا ہے ( 7 اشعار کے 3 پوسٹر)

Image
7 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book SULAGTE KHAWAB in 3 posters  حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "سلگتے خواب" کی ایک غزل کے 7 اشعارکے 3 پوسٹر طلوعِ صبح سے پہلے شگافِ نیل ہونا ہے یہ منظر سامنے کا جلد ہی تبدیل ہونا ہے گزرتی سرد اور لمبی اندھیری شب کے سینے میں ابھی کچھ اور شمعوں کا لہو تحلیل ہونا ہے پھر اہلِ جور کے حق میں فقیہِ شہر کے صدقے حدیثِ جبر کی کوئی نئی تاویل ہونا ہے ہماری ایڑیوں سے اب کوئی چشمہ نہ ابلے گا نہ قسمت میں ہماری کوئی بیتِ اِیل ہونا ہے تمہارے دل کی بنجر سر زمیں سیراب کرنے کو ہماری خشک آنکھوں ہی کو آخر جھیل ہونا ہے کبھی دریا کی لہروں پر، کبھی صحرا کے سینے میں محبت کا نیا قصہ سدا تشکیل ہونا ہے ہمارا خواب تو بے شک ادھورا رہ گیا حیدر مگر تعبیر کی تو لازماً تکمیل ہوناہے   7 couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book SULAGTE KHAWAB Sulagte Khawab is online at many links...here are the 2 links to reach the book. https://archive.org/details/SulagtayKhawab/Sulagtay%20Khawab%20%D8%B4%D8%A7%D8%B9%D8%B1%DB%8C/mode/2up  اور https://...