اظہار کی اِس دل نے اس بار تو حد کر دی - ہر بات مگر اُس نے اِس بار بھی رد کر دی (6اشعار/2پوسٹر)


6 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book ZINDGI

حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "زندگی" کی ایک غزل کے 6 شعروں کے 2 پوسٹر

اظہار کی اِس دل نے اس بار تو حد کر دی

ہر بات مگر اُس نے اِس بار بھی رد کر دی

جو کام نہ ہونا تھا،وہ ہو ہی گیا آخر

کچھ ہم نے بھی ہمت کی،کچھ اس نے مدد کر دی

اس درد سمندر میں اک جزر تھا مدّت سے

اس درد سمندر میں کیوں آپ نے مد کر دی

جو مانتے ہیں دل سے وہ کھل کے نہیں کہتے

یاروں کے رویے نے توثیقِ حسد کر دی

اعداد ہوئے غالب تو آج کی دنیا نے

ہر حرف کی حرمت ہی اب زیرِ عدد کر دی

وا گود رکھی اس نے،بیداری رہی جب تک

جب نیند کا وقت آیا ،گود اس نے لحد کر دی

نکلے تھے ازل سے جواک لہرمیں،سو ان کی

قسمت نے مسافت بھی تاحدِ ابد کر دی

تھے زیر و زبر دونوں،اک زیر ہوا آخر

پھر آخری لمحے میں اس زیر نے شد کر دی

شدت کا رویہ ہی عادت سی رہی اس کی

نفرت بھی بلا کی تھی،چاہت بھی اشد کر دی

جب عشق کیا حیدر معیار بنا ڈالا

اور ایسی محبت کی،دنیا میں سند کر دی




 6 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 6th poetry book ZINDGI

ZINDGI is online at these links
اور



Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)

ٹوٹتے،گرتے ہوئے گھر نہیں دیکھے جاتے - بد دعا جیسے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے (9 اشعار#3 پوسٹر)