ٹوٹتے،گرتے ہوئے گھر نہیں دیکھے جاتے - بد دعا جیسے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے (9 اشعار#3 پوسٹر)


9 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book ZINDGI

حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "زندگی" کی ایک غزل کے 9 شعروں کے 3 پوسٹر

8 اکتوبر2005 کے قیامت خیز زلزلہ کی خبریں دیکھ
 دیکھ کر15 اکتوبر کو ارتجالاََ غزل کے یہ اشعار ہو گئے۔
اس کے چھپنے کے بعد متعدد شاعروں نے اسی زمین میں طبع آزمائی کی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹوٹتے،گرتے ہوئے گھر نہیں دیکھے جاتے
بد دعا جیسے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے

پھول چہروں پہ کھِنڈے ڈر نہیں دیکھے جاتے
آنکھ سے خوف کے پیکر نہیں دیکھے جاتے

ارضِ خوش رنگ کے سب کوہ و دمن لرزاں ہیں
خون روتے ہوئے پتھر نہیں دیکھے جاتے

گر گئے دستِ دعا گنبد و مینار کے ساتھ
خاک ہوتے ہوئے منبر نہیں دیکھے جاتے

زندگی رُلتی رہی کیسے قضا کے ہاتھوں
اور احوالِ ستم گر نہیں دیکھے جاتے

قہر برساتی ہے کہ چشمِ فلک روتی ہے؟
جو بھی ہے اس کے یہ تیور نہیں دیکھے جاتے

برفباری کا جہنم بھی چلا آتا ہے
منجمد ہوتے مقدر نہیں دیکھے جاتے

دیکھتے دیکھتے آنکھوں میں اُتر آتے ہیں
اور۔۔یہ غم کے سمندر نہیں دیکھے جاتے

دیکھتے رہتے ہیں ہر حال میں حیدر پھر بھی

گرچہ ٹی وی کے مناظر نہیں دیکھے جاتے

گے




couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 6th poetry book ZINDGI

ZINDGI is online at these links


اور

Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)