وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)

 

Haider Qureshi's complete ghazal from DARD SUMANSAR

حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "درد سمندر" کی ایک غزل 

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں
سُچے موتیوں میں اب تلنے والے ہیں
اپنی ذات کے دروازے تک آپہنچے
بھید ہمارے ہم پر کھلنے والے ہیں
دودھ بدن ہے وہ تو مصری کوزہ ہم
سو اب اُس کے عشق میں گھلنے والے ہیں
واقفیت ہے اِن سے اپنی برسوں کی 
دُکھ تو ہمارے ملنے جلنے والے ہیں
آنکھیں اس کی بھی ہیں اب برسات بھری
حیدر مَیل دِلوں کے دُھلنے والے ہیں




5 couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 5th poetry book DARD SUMANDAR.
Dard Sumandar is online at many links...here are the 2 links to reach the book.










Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

ٹوٹتے،گرتے ہوئے گھر نہیں دیکھے جاتے - بد دعا جیسے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے (9 اشعار#3 پوسٹر)