کون انگڑائی سی ليتا ہے نفس کے اندر- لذتِ وصل مہکتی ہے ہوس کے اندر (6شعروں کے 2 پوسٹر)
6 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book ZINDGI حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "زندگی" کی ایک غزل کے 6 شعروں کے دو پوسٹر کون انگڑائی سی ليتا ہے نفس کے اندر لذتِ وصل مہکتی ہے ہوس کے اندر پھر سے در پیش ہوا لگتا ہے باہر کا سفر لہر سی اُٹھنے لگی ہے کوئی نَس کے اندر رَس بنايا گیا اس زندگی کو پہلے، پھر موت کا زہر ملایا گیا رَس کے اندر پھول نے صرف بکھیری ہے مہک بھینی سی اصل خوشبو تو وگرنہ ہے سِرَس کے اندر قافلے والے بہت خوش تھے دَمِ رخصت تو سسکیاں کس کی تھیں آوازِ جرس کے اندر کُن کا اک لفظ اسیروں پہ کہیں سے اترا آسماں ہو گئے تخلیق قفس کے اندر حيدر اک اور ہی دنیا ہے یہ انٹرنيٹ کی کیا سے کیا ہو گيا ہوں سات برس کے اندر 6 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 6th poetry book ZINDGI ZINDGI is online at these links https://archive.org/details/ZINDGI/mode/2up اور https://drive.google.com/file/d/0B_xQnk75odj9RG9MbkhjbUVqUGM/vie