Posts

Showing posts from August, 2026

کوئی آوارہ ہے یا بھٹکی ہوئی ہے زندگی - موت کی نظروں میں جو کھٹکی ہوئی ہے زندگی(7 اشعار/ 3 پوسٹر)

Image
7 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book ZINDGI حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "زندگی" کی ایک غزل کے 7 شعروں کے 3 پوسٹر کوئی آوارہ ہے یا بھٹکی ہوئی ہے زندگی موت کی نظروں میں جو کھٹکی ہوئی ہے زندگی شور سنتے تھے بہت لیکن حقیقت اور ہے ایک ہی تو سانس پر اٹکی ہوئی ہے زندگی کربلا کی خاک پر روندی گئی ہے اور کبھی نفرتوں کی دار پر لٹکی ہوئی ہے  دھوپ میں ٹھنڈک،تمازت گھل گئی ہوں جس طرح  ایسے سارے دہر میں چھٹکی ہوئی ہے زندگی رنگ و خوشبو کا کوئی جادو اسی کے دَم سے زندگی گلشنِ ہستی میں جو چٹکی ہوئی ہے زندگی یہ تو بس موّاج لہروں کا انوکھا کھیل ہے کب کسی ساحل،کسی تٹ کی ہوئی ہے زندگی اور تھے حیدر جو اس کی چاہ میں مرتے رہے ہم نے الٹے ہاتھ سے جھٹکی ہوئی ہے زندگی 7 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 6th poetry book ZINDGI ZINDGI is online at these links https://archive.org/details/ZINDGI/mode/2up اور https://drive.google.com/file/d/0B_xQnk75odj9RG9MbkhjbUVqUGM/vie

اظہار کی اِس دل نے اس بار تو حد کر دی - ہر بات مگر اُس نے اِس بار بھی رد کر دی (6اشعار/2پوسٹر)

Image
6 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book ZINDGI حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "زندگی" کی ایک غزل کے 6 شعروں کے 2 پوسٹر اظہار کی اِس دل نے اس بار تو حد کر دی ہر بات مگر اُس نے اِس بار بھی رد کر دی جو کام نہ ہونا تھا،وہ ہو ہی گیا آخر کچھ ہم نے بھی ہمت کی،کچھ اس نے مدد کر دی اس درد سمندر میں اک جزر تھا مدّت سے اس درد سمندر میں کیوں آپ نے مد کر دی جو مانتے ہیں دل سے وہ کھل کے نہیں کہتے یاروں کے رویے نے توثیقِ حسد کر دی اعداد ہوئے غالب تو آج کی دنیا نے ہر حرف کی حرمت ہی اب زیرِ عدد کر دی وا گود رکھی اس نے،بیداری رہی جب تک جب نیند کا وقت آیا ،گود اس نے لحد کر دی نکلے تھے ازل سے جواک لہرمیں،سو ان کی قسمت نے مسافت بھی تاحدِ ابد کر دی تھے زیر و زبر دونوں،اک زیر ہوا آخر پھر آخری لمحے میں اس زیر نے شد کر دی شدت کا رویہ ہی عادت سی رہی اس کی نفرت بھی بلا کی تھی،چاہت بھی اشد کر دی جب عشق کیا حیدر معیار بنا ڈالا اور ایسی محبت کی،دنیا میں سند کر دی  6 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 6th poetry book ZINDGI ZINDGI is online at these links https://archive.org/d...

دردِ دِل کی ہمیں اب کے وہ دوائی دی ہے- اپنے دربار تلک سیدھی رسائی دی ہے (9 شعر/ 3 پوسٹر)

Image
   9 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book ZINDGI حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "زندگی" کی ایک غزل کے 9 شعروں کے 3 پوسٹر دردِ دل کی ہمیں اب کے وہ دوائی دی ہے اپنے دربار تلک سیدھی رسائی دی ہے اک جھماکا سا ہوا روح کے اندر ایسے نوری برسوں کی سی رفتار دکھائی دی ہے کیسے زنجیر کا دل ٹوٹا یہ اُس نے نہ سُنا وقت نے قیدی کو بس فوری رہائی دی ہے اک نئی لمبی مسافت کا زمیں زاد کو حکم اور اس بار مسافت بھی خلائی دی ہے جب بھی جانا ہے پلٹ کر نہیں دیکھیں گے کہیں اپنے اندر سے یہ آواز سنائی دی ہے جتنے دکھ درد تھے،دل میں ہی ڈبو ڈالے ہیں ہم نے فریاد کبھی کی نہ دُہائی دی ہے اُن فقیروں کے لیے ایک خدا کافی ہے اہلِ دنیا کو جنہوں نے یہ خدائی دی ہے اک عجب عالمِ برزخ میں ہی رکھا اس نے نہ کبھی قرب ہی بخشا نہ جدائی دی ہے کسی الزام کا اقرار بھی حیدر نہ کیا نہ بریت کے لیے کوئی صفائی دی ہے 9 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 6th poetry book ZINDGI ZINDGI is online at these links https://archive.org/details/ZINDGI/mode/2up اور https://drive.google.com/file/d/0B_xQnk75odj9RG9Mbkh...

میری دھرتی سے پرے، کوئی بلاتا ہے مجھے - کہکشاؤں کی عجب راہ دکھاتا ہے مجھے (8 اشعار کی غزل کے 3 پوسٹر)

Image
8 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book UMR e GUREZAN,   حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "عمرِ گریزاں" کی ایک غزل کے 8 اشعار کے تین پوسٹر میری دھرتی سے پرے، کوئی بلاتا ہے مجھے کہکشاؤں کی عجب راہ دکھاتا ہے مجھے چشمِ نَم کے وہ زمانے تو کبھی کے بیتے لیکن اک تارا وہی قصے سناتا ہے مجھے جس نے آمادہ کیا ترکِ تعلق کے لئے اب وہی دل ہی کچوکے سے لگاتا ہے مجھے ماں! ترے بعد سے سورج ہے سوا نیزے پر بس تری ممتا کا اک سایہ بچاتا ہے مجھے اِس زمانے کے خداؤں نے بگاڑا ہے مگر میرے اندر کا اک انسان بناتا ہے مجھے کس وفا سے وہ ابھی تک ہے ستم پر قائم کس محبت سے ابھی تک وہ جَلاتا ہے مجھے  صرف یہ عمرِ گریزاں ہی نہیں کرتی اُداس میرا ہنستا ہوا بچپن بھی رُلاتا ہے مجھے جانے کیا بات ہے اُس شخص کے دل میں حیدر جو ابھی تک وہ بتا ہی نہیں پاتا ہے مجھے 8 couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book Umre Gurezan UMR e GUREZAN is online at many links...here are the 2 links to reach the book. https://drive.google.com/file/d/0B_xQnk75odj9SW9EbW9DMWUxZEU/view?usp=drivesdk&resource...

جب سرکار کی جانب سے منظوری ہوتی ہے (5 اشعار کے 2 پوسٹر)

Image
couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book UMR e GUREZAN,   حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "عمرِ گریزاں" کی ایک غزل کے پانچ اشعار کے دو پوسٹر جب سرکار کی جانب سے منظوری ہوتی ہے فاصلہ کتنا بھی ہو عین حضوری ہوتی ہے جذب کے عالم میں پہنچا بندہ جو کہہ جائے بات خدائی ہوتی ہے سو پوری ہوتی ہے باہر کے شیطان خرابی سی کر جاتے ہیں ورنہ ہر انسان کی فطرت نوری ہوتی ہے دل میں بسنے والے دُور بھلا کب ہوتے ہیں دنیا کی نظروں میں بے شک دُوری ہوتی ہے ویسے تو ہے عزت والا یہ منصب حیدر عشق میں لیکن ذلّت کی مزدوری ہوتی ہے  5couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book Umre Gurezan UMR e GUREZAN is online at many links...here are the 2 links to reach the book. https://drive.google.com/file/d/0B_xQnk75odj9SW9EbW9DMWUxZEU/view?usp=drivesdk&resourcekey=0-urfZyWjXrVyGSJj_EEwEBA Umre Gurezan is also available at this Archive link https://archive.org/details/UmreGurezaN/mode/2up

کچھ. قید. سنا دیتے / دکھ حق تھا غریبوں کا (2 ماہیوں کا پوسٹر)

Image
2 Mahiyas by Haider Qureshi from his poetry book MOHABBAT KE PHOOL حیدرقریشی کے ماہیوں کے مجموعہ "محبت کے پھول" سے دو ماہیوں کا پوسٹر  کچھ.  قید. سنا   دیتے  عشق کے مجرم کو کوئی  تو. سزا   دیتے …………… دکھ حق تھا غریبوں کا  تم سے گلہ کوئی  نہ ہی شکوہ نصیبوں کا   Haider Qureshi's 2 Mahiyas from his poetry book Mohabbat ke Phool Mohabbat ke Phool is online at many links...here are the 2 links to read the book https://archive.org/details/MohabbatKayPhool/mode/2up  اور https://drive.google.com/file/d/0B_xQnk75odj9MzdCeDBhaDh0eUk/view?usp=drivesdk&resourcekey=0-9HldKQfp27mNkvoRBJEUfA

عروج کیا ہے، زوال کیا ہے - خوشی ہے کیا اور ملال کیاہے (9 شعروں کے تین پوسٹر)

Image
  9 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book ZINDGI حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "زندگی" کی ایک غزل کے 9 شعروں کے 3 پوسٹر عروج کیا ہے، زوال کیا ہے خوشی ہے کیا اور ملال کیاہے  یہ گردشِ ماہ و سال کیا ہے  زمانے! تیری یہ چال کیا ہے  بھلے ہو وقتی اُبال چاہت مگر یہ وقتی اُبال کیا ہے ہوس تو بے شک ہوس ہی ٹھہری  پہ جستجوئے وصال کیا ہے ہے دل کوئی بے کنار صحرا کہ آرزؤں کا جال، کیاہے حقیقتیں تو فریب نکلیں جہانِ خواب و خیال کیا ہے سوال جو اتنے کر رہے ہو تمہارا اصلی سوال کیا ہے ہر ایک رنجش بھلا چکے ہو تو دل کے شیشے میں بال کیا ہے خدا ہے مشکل کُشا تو حیدر کوئی بھی کارِ محال کیا ہے 9 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 6th poetry book ZINDGI ZINDGI is online at these links https://archive.org/details/ZINDGI/mode/2up اور https://drive.google.com/file/d/0B_xQnk75odj9RG9MbkhjbUVqUGM/vie

دوپہر جوانی تھی/ اٹھتی ہے کسک پھر بھی (2 ماہیوں کا پوسٹر)

Image
2 Mahiyas by Haider Qureshi from his poetry book MOHABBAT KE PHOOL  حیدرقریشی کے ماہیوں کے مجموعہ "محبت کے پھول" سے دو ماہیوں کا پوسٹر  دو پہر. جوانی تھی پل میں بیت گئی  پھر شام سہانی تھی * اٹھتی ہے کسک پھر بھی گرچہ ابھی تک ہے جو بن کی مہک ،۔ پھر بھی ٭ Haider Qureshi's 2 Mahiyas from his poetry book Mohabbat ke Phool Mohabbat ke Phool is online at many links...here are the 2 links to read the book https://archive.org/details/MohabbatKayPhool/mode/2up  اور https://drive.google.com/file/d/0B_xQnk75odj9MzdCeDBhaDh0eUk/view?usp=drivesdk&resourcekey=0-9HldKQfp27mNkvoRBJEUfA

خوشیوں کی گھڑی آئی / پہلے پُر آب ہوئی (2 ماہیوں کا پوسٹر)

Image
2 Mahiyas by Haider Qureshi from his poetry book MOHABBAT KE PHOOL حیدرقریشی کے ماہیوں کے مجموعہ "محبت کے پھول" سے دو ماہیوں کا پوسٹر  خوشیوں کی گھڑی آئی  آنکھ کے صحرا میں  یادوں کی جھڑی آئی  * پہلے پُر آب ۔ہوئی یاد میں سوہنی کی  پھر آنکھ چناب ہوئی Haider Qureshi's 2 Mahiyas from his poetry book Mohabbat ke Phool Mohabbat ke Phool is online at many links...here are the 2 links to read the book https://archive.org/details/MohabbatKayPhool/mode/2up  اور https://drive.google.com/file/d/0B_xQnk75odj9MzdCeDBhaDh0eUk/view?usp=drivesdk&resourcekey=0-9HldKQfp27mNkvoRBJEUfA

نفر ت کے اندھیروں کو/دنیا پہ کرم کر دے (2 ماہیوں کا پوسٹر)

Image
2 Mahiyas by Haider Qureshi from his poetry book MOHABBAT KE PHOOL حیدرقریشی کے ماہیوں کے مجموعہ "محبت کے پھول" سے دو ماہیوں کا پوسٹر  نفر ت کے اندھیروں کو توڑ مِرے مالک ظلمات کے گھیروں کو ٭ دنیا پہ کرم کر دے پیار کی سینوں میں پھر روشنیاں بھردے Haider Qureshi's 2 Mahiyas from his poetry book Mohabbat ke Phool Mohabbat ke Phool is online at many links...here are the 2 links to read the book https://archive.org/details/MohabbatKayPhool/mode/2up  اور https://drive.google.com/file/d/0B_xQnk75odj9MzdCeDBhaDh0eUk/view?usp=drivesdk&resourcekey=0-9HldKQfp27mNkvoRBJEUfA  

ٹوٹتے،گرتے ہوئے گھر نہیں دیکھے جاتے - بد دعا جیسے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے (9 اشعار#3 پوسٹر)

Image
9 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book ZINDGI حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "زندگی" کی ایک غزل کے 9 شعروں کے 3 پوسٹر 8 اکتوبر2005 کے قیامت خیز زلزلہ کی خبریں دیکھ  دیکھ کر15 اکتوبر کو ارتجالاََ غزل کے یہ اشعار ہو گئے۔ اس کے چھپنے کے بعد متعدد شاعروں نے اسی زمین میں طبع آزمائی کی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹوٹتے،گرتے ہوئے گھر نہیں دیکھے جاتے بد دعا جیسے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے پھول چہروں پہ کھِنڈے ڈر نہیں دیکھے جاتے آنکھ سے خوف کے پیکر نہیں دیکھے جاتے ارضِ خوش رنگ کے سب کوہ و دمن لرزاں ہیں خون روتے ہوئے پتھر نہیں دیکھے جاتے گر گئے دستِ دعا گنبد و مینار کے ساتھ خاک ہوتے ہوئے منبر نہیں دیکھے جاتے زندگی رُلتی رہی کیسے قضا کے ہاتھوں اور احوالِ ستم گر نہیں دیکھے جاتے قہر برساتی ہے کہ چشمِ فلک روتی ہے؟ جو بھی ہے اس کے یہ تیور نہیں دیکھے جاتے برفباری کا جہنم بھی چلا آتا ہے منجمد ہوتے مقدر نہیں دیکھے جاتے دیکھتے دیکھتے آنکھوں میں اُتر آتے ہیں

یہ واقعہ ہوا اپنے وقوع سے پہلے - کہ اختتامِ سفر تھا ، شروع سے پہلے(سات اشعار کے تین پوسٹر)

Image
7 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book ZINDGI حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "زندگی" کی ایک غزل کے 7 شعروں کے 3 پوسٹر یہ واقعہ ہوا اپنے وقوع سے پہلے کہ اختتامِ سفر تھا ، شروع سے پہلے نہیں تھی لذتِ سجدہ، رکوع میں لیکن اک اور کیف تھا،کیفِ خشوع سے پہلے نصوص کو بھی کبھی دیکھ لیں گے فرصت میں ابھی نمٹ تو لیں”مومن“ فروع سے پہلے معافی مانگنا پھر بعد میں خلوص کے ساتھ گناہ کرنا خشوع و خضوع سے پہلے اُسی کے پاس تو جانا ہے لوٹ کر آخر سو خوب گھومئے ، پھرئیے ، رجوع سے پہلے سپاہِ شب نے تو اندھیر کر دیا تھا بہت سو آگیا ہوں میں وقتِ طلوع سے پہلے یہ عید آئی ہے کس قتل گاہ میں حیدر سلام پھیر لیا ہے رکوع سے پہلے 7 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 6th poetry book ZINDGI ZINDGI is online at these links https://archive.org/details/ZINDGI/mode/2up اور https://drive.google.com/file/d/0B_xQnk75odj9RG9MbkhjbUVqUGM/vie

پہنچائی گرچہ آپ نے ہر ممکنہ گزند - اک سرنگوں کو کر دیا مولا نے سر بلند (9 اشعار#3 پوسٹر)

Image
  9 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book ZINDGI حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "زندگی" کی ایک غزل کے 9 شعروں کے 3 پوسٹر پہنچائی گرچہ آپ نے ہر ممکنہ گزند اک سرنگوں کو کر دیا مولا نے سر بلند جو جتنا رب کے شکر سے لبریز ہو گیا اللہ نے کردیا اسے کچھ اور ارجمند اِتنے ہی ہم مزاج تھے،اِتنے ہی مختلف جو مجھ کو ناپسند تھا،اُس کو رہا پسند اُس کے خیال میں اُڑی مچھلی ہوا میں، تو ہم نے لگائی ایڑ،سمندر میں تھا سمند مسجد میں ہم گئے تو وہ جائیں گے چرچ میں ہم قادیاں گئے تو وہ جائیں گے دیو بند اک بائبل کہے تو کہے وید دوسرا قرآن ایک لائے تو لے آئے ایک ژند قسمت میں تھا یہی کہ پلٹ کر نہ جا سکیں ہم بام تک پہنچ گئے،ٹوٹی نہیں کمند پھر بھی نباہ ہو گیا،جیسے بھی ہو گیا ہم مستِ حالِ فقر تو وہ سخت خود پسند دونوں گناہگار ہی کچھ لاڈلے سے تھے دونوں نے مل کے کھولا تھا بابِ قبول بند اک دوسرے کو زخم بھی دیتے ہیں پیار سے اک دوسرے کے واسطے دونوں ہیں دردمند 9 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 6th poetry book ZINDGI ZINDGI is online at these links https://archive.org/details/ZINDGI/m...

نہ جانے کیوں تمناؤں کی طغیانی میں رکھا ہے ۔ ابھی تک دل نے خود کو عہدِ نادانی میں رکھا ہے(9اشعار#3پوسٹر)

Image
  9 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book ZINDGI حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "زندگی" کی ایک غزل کے 9 شعروں کے 3 پوسٹر  نہ جانے کیوں تمناؤں کی طغیانی میں رکھا ہے ابھی تک دل نے خود کو عہدِ نادانی میں رکھا ہے یہ کیسا آئنہ رُو اب کے میرے روبرو آیا مجھے جس نے مسلسل ایک حیرانی میں رکھا ہے کوئی خواہش ہو،اب کہتے ہی فوراََ مان لیتا ہے ستم گر نے مجھے اب بھی پریشانی میں رکھا ہے عنایت میں بھی اک طرزِ ستم محسوس ہوتا ہے نہ لاؤں تاب جس کی ایسی تابانی میں رکھا ہے دکھائی شانِ فقراپنی تمہاری بادشاہی میں فقیری عجز اپنے عہدِ سلطانی میں رکھا ہے ہے میری روح میرے جسم کے ہر ذرّہ میں پنہاں تو اپنے جسم کو اک شہرِ روحانی میں رکھا ہے دیارِ حُسن میں خیرات کی خواہش نہیں رہتی بخیلوں نے بخیلی کو فراوانی میں رکھا ہے بہت سی بے نیازی اور اک یادوں بھری گٹھڑی بڑا سامان اپنی خستہ سامانی میں رکھا ہے یہاں سے رونقیں دکھ درد کی جاتی نہیں حیدر دکھوں کا ایسا میلہ اپنی ویرانی میں رکھا ہے 9 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 6th poetry book ZINDGI ZINDGI is online at these links https://...

بخشی تھی ہجر نے جو تب و تاب لے گیا - اس جسم کو تو وصل کا سیلاب لے گیا(9 اشعار#3پوسٹر)

Image
9 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book ZINDGI حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "زندگی" کی ایک غزل کے 9 شعروں کے 3 پوسٹر بخشی تھی ہجر نے جو تب و تاب لے گیا اس جسم کو تو وصل کا سیلاب لے گیا خوابوں سے بڑھ کے پیار کی تعبیریں بخش کے جاتے ہوئے وہ میرے سبھی خواب لے گیا دامن کو میرے بھر گیا چَین و قرار سے بدلے میں وہ مِرا دلِ بے تاب لے گیا کر دی ہیں ماند رونقیں دریائے جان کی رقصاں تھے اس میں جتنے بھی گرداب لے گیا تاکہ کسی سفر پہ نکل ہی نہ پاؤں اب  ہمراہ اپنے وہ مِرا اسباب لے گیا پہلے تو اس نے کی تھیں عنایات بے شمار پھر جو بھی میرے پاس تھا نایاب، لے گیا سیراب کر کے ، پیاس کی لذّت کو چھین کر  صحرا کے ضابطے، ادب آداب لے گیا جگنو ، ستارے، اشک، محبت کے ہم سفر میرے تمام ہجر کے احباب لے گیا اک روشنی سے بھر گیا حیدر مِر ا وجود  بے شک وہ میرے سورج و مہتاب لے گیا 9 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 6th poetry book ZINDGI ZINDGI is online at these links https://archive.org/details/ZINDGI/mode/2up اور https://drive.google.com/file/d/0B_xQnk75odj9RG9MbkhjbUVqUGM/vie...