پہنچائی گرچہ آپ نے ہر ممکنہ گزند - اک سرنگوں کو کر دیا مولا نے سر بلند (9 اشعار#3 پوسٹر)

 

9 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book ZINDGI

حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "زندگی" کی ایک غزل کے 9 شعروں کے 3 پوسٹر

پہنچائی گرچہ آپ نے ہر ممکنہ گزند
اک سرنگوں کو کر دیا مولا نے سر بلند

جو جتنا رب کے شکر سے لبریز ہو گیا
اللہ نے کردیا اسے کچھ اور ارجمند

اِتنے ہی ہم مزاج تھے،اِتنے ہی مختلف
جو مجھ کو ناپسند تھا،اُس کو رہا پسند

اُس کے خیال میں اُڑی مچھلی ہوا میں، تو
ہم نے لگائی ایڑ،سمندر میں تھا سمند

مسجد میں ہم گئے تو وہ جائیں گے چرچ میں
ہم قادیاں گئے تو وہ جائیں گے دیو بند

اک بائبل کہے تو کہے وید دوسرا
قرآن ایک لائے تو لے آئے ایک ژند

قسمت میں تھا یہی کہ پلٹ کر نہ جا سکیں
ہم بام تک پہنچ گئے،ٹوٹی نہیں کمند

پھر بھی نباہ ہو گیا،جیسے بھی ہو گیا
ہم مستِ حالِ فقر تو وہ سخت خود پسند

دونوں گناہگار ہی کچھ لاڈلے سے تھے
دونوں نے مل کے کھولا تھا بابِ قبول بند

اک دوسرے کو زخم بھی دیتے ہیں پیار سے
اک دوسرے کے واسطے دونوں ہیں دردمند








9 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 6th poetry book ZINDGI

ZINDGI is online at these links


اور

Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

یہ واقعہ ہوا اپنے وقوع سے پہلے - کہ اختتامِ سفر تھا ، شروع سے پہلے(سات اشعار کے تین پوسٹر)

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)