یہ واقعہ ہوا اپنے وقوع سے پہلے - کہ اختتامِ سفر تھا ، شروع سے پہلے(سات اشعار کے تین پوسٹر)


7 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book ZINDGI

حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "زندگی" کی ایک غزل کے 7 شعروں کے 3 پوسٹر

یہ واقعہ ہوا اپنے وقوع سے پہلے
کہ اختتامِ سفر تھا ، شروع سے پہلے

نہیں تھی لذتِ سجدہ، رکوع میں لیکن
اک اور کیف تھا،کیفِ خشوع سے پہلے

نصوص کو بھی کبھی دیکھ لیں گے فرصت میں
ابھی نمٹ تو لیں”مومن“ فروع سے پہلے

معافی مانگنا پھر بعد میں خلوص کے ساتھ
گناہ کرنا خشوع و خضوع سے پہلے

اُسی کے پاس تو جانا ہے لوٹ کر آخر
سو خوب گھومئے ، پھرئیے ، رجوع سے پہلے

سپاہِ شب نے تو اندھیر کر دیا تھا بہت
سو آگیا ہوں میں وقتِ طلوع سے پہلے

یہ عید آئی ہے کس قتل گاہ میں حیدر
سلام پھیر لیا ہے رکوع سے پہلے





7 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 6th poetry book ZINDGI

ZINDGI is online at these links


اور

Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)

ٹوٹتے،گرتے ہوئے گھر نہیں دیکھے جاتے - بد دعا جیسے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے (9 اشعار#3 پوسٹر)