کوئی آوارہ ہے یا بھٹکی ہوئی ہے زندگی - موت کی نظروں میں جو کھٹکی ہوئی ہے زندگی(7 اشعار/ 3 پوسٹر)
7 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book ZINDGI
حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "زندگی" کی ایک غزل کے 7 شعروں کے 3 پوسٹر
کوئی آوارہ ہے یا بھٹکی ہوئی ہے زندگی
موت کی نظروں میں جو کھٹکی ہوئی ہے زندگی
شور سنتے تھے بہت لیکن حقیقت اور ہے
ایک ہی تو سانس پر اٹکی ہوئی ہے زندگی
کربلا کی خاک پر روندی گئی ہے اور کبھی
نفرتوں کی دار پر لٹکی ہوئی ہے
دھوپ میں ٹھنڈک،تمازت گھل گئی ہوں جس طرح
ایسے سارے دہر میں چھٹکی ہوئی ہے زندگی
رنگ و خوشبو کا کوئی جادو اسی کے دَم سے زندگی
گلشنِ ہستی میں جو چٹکی ہوئی ہے زندگی
یہ تو بس موّاج لہروں کا انوکھا کھیل ہے
کب کسی ساحل،کسی تٹ کی ہوئی ہے زندگی
اور تھے حیدر جو اس کی چاہ میں مرتے رہے
ہم نے الٹے ہاتھ سے جھٹکی ہوئی ہے زندگی
7 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 6th poetry book ZINDGI
ZINDGI is online at these links
اور



Comments
Post a Comment