نہ جانے کیوں تمناؤں کی طغیانی میں رکھا ہے ۔ ابھی تک دل نے خود کو عہدِ نادانی میں رکھا ہے(9اشعار#3پوسٹر)

 

9 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book ZINDGI

حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "زندگی" کی ایک غزل کے 9 شعروں کے 3 پوسٹر

 نہ جانے کیوں تمناؤں کی طغیانی میں رکھا ہے

ابھی تک دل نے خود کو عہدِ نادانی میں رکھا ہے

یہ کیسا آئنہ رُو اب کے میرے روبرو آیا
مجھے جس نے مسلسل ایک حیرانی میں رکھا ہے

کوئی خواہش ہو،اب کہتے ہی فوراََ مان لیتا ہے
ستم گر نے مجھے اب بھی پریشانی میں رکھا ہے

عنایت میں بھی اک طرزِ ستم محسوس ہوتا ہے
نہ لاؤں تاب جس کی ایسی تابانی میں رکھا ہے

دکھائی شانِ فقراپنی تمہاری بادشاہی میں
فقیری عجز اپنے عہدِ سلطانی میں رکھا ہے

ہے میری روح میرے جسم کے ہر ذرّہ میں پنہاں
تو اپنے جسم کو اک شہرِ روحانی میں رکھا ہے

دیارِ حُسن میں خیرات کی خواہش نہیں رہتی
بخیلوں نے بخیلی کو فراوانی میں رکھا ہے

بہت سی بے نیازی اور اک یادوں بھری گٹھڑی
بڑا سامان اپنی خستہ سامانی میں رکھا ہے

یہاں سے رونقیں دکھ درد کی جاتی نہیں حیدر
دکھوں کا ایسا میلہ اپنی ویرانی میں رکھا ہے







9 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 6th poetry book ZINDGI

ZINDGI is online at these links


اور



Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)

ٹوٹتے،گرتے ہوئے گھر نہیں دیکھے جاتے - بد دعا جیسے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے (9 اشعار#3 پوسٹر)