بخشی تھی ہجر نے جو تب و تاب لے گیا - اس جسم کو تو وصل کا سیلاب لے گیا(9 اشعار#3پوسٹر)


9 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book ZINDGI

حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "زندگی" کی ایک غزل کے 9 شعروں کے 3 پوسٹر

بخشی تھی ہجر نے جو تب و تاب لے گیا
اس جسم کو تو وصل کا سیلاب لے گیا

خوابوں سے بڑھ کے پیار کی تعبیریں بخش کے
جاتے ہوئے وہ میرے سبھی خواب لے گیا

دامن کو میرے بھر گیا چَین و قرار سے
بدلے میں وہ مِرا دلِ بے تاب لے گیا

کر دی ہیں ماند رونقیں دریائے جان کی
رقصاں تھے اس میں جتنے بھی گرداب لے گیا

تاکہ کسی سفر پہ نکل ہی نہ پاؤں اب
 ہمراہ اپنے وہ مِرا اسباب لے گیا

پہلے تو اس نے کی تھیں عنایات بے شمار
پھر جو بھی میرے پاس تھا نایاب، لے گیا

سیراب کر کے ، پیاس کی لذّت کو چھین کر 
صحرا کے ضابطے، ادب آداب لے گیا

جگنو ، ستارے، اشک، محبت کے ہم سفر
میرے تمام ہجر کے احباب لے گیا

اک روشنی سے بھر گیا حیدر مِر ا وجود 
بے شک وہ میرے سورج و مہتاب لے گیا







9 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 6th poetry book ZINDGI

ZINDGI is online at these links


اور


Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)

ٹوٹتے،گرتے ہوئے گھر نہیں دیکھے جاتے - بد دعا جیسے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے (9 اشعار#3 پوسٹر)