عروج کیا ہے، زوال کیا ہے - خوشی ہے کیا اور ملال کیاہے (9 شعروں کے تین پوسٹر)


 9 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book ZINDGI

حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "زندگی" کی ایک غزل کے 9 شعروں کے 3 پوسٹر

عروج کیا ہے، زوال کیا ہے
خوشی ہے کیا اور ملال کیاہے 

یہ گردشِ ماہ و سال کیا ہے 
زمانے! تیری یہ چال کیا ہے 

بھلے ہو وقتی اُبال چاہت
مگر یہ وقتی اُبال کیا ہے

ہوس تو بے شک ہوس ہی ٹھہری 
پہ جستجوئے وصال کیا ہے

ہے دل کوئی بے کنار صحرا
کہ آرزؤں کا جال، کیاہے

حقیقتیں تو فریب نکلیں
جہانِ خواب و خیال کیا ہے

سوال جو اتنے کر رہے ہو
تمہارا اصلی سوال کیا ہے

ہر ایک رنجش بھلا چکے ہو
تو دل کے شیشے میں بال کیا ہے

خدا ہے مشکل کُشا تو حیدر
کوئی بھی کارِ محال کیا ہے






9 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 6th poetry book ZINDGI

ZINDGI is online at these links
اور

Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)

ٹوٹتے،گرتے ہوئے گھر نہیں دیکھے جاتے - بد دعا جیسے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے (9 اشعار#3 پوسٹر)