سامنے ہے گھر مگر مفقود گھر کے راستے (2 شعر#1پوسٹر)
2 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book SULAGTE KHAWAB in 1 poster
حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "سلگتے خواب" کی ایک غزل کے دواشعار کاپوسٹر
سامنے ہے گھر مگر مفقود گھر کے راستے
کھو گئے آخر کہاں معبود گھر کے راستے
فاصلہ ہو دل میں تو ہیں دوریاں ہی دوریاں
دل کشادہ ہو تو ہیں محدود گھر کے راستے
دشتِ حیرت میں کھڑا ہوں چشمِ حیرت واکیے
ہیں ابھی غائب، ابھی موجود گھر کے راستے
پھیلتی جاتی ہیں کیسی خوشبوئیں چاروں طرف
ہوگئے کس کے لئے مسجود گھر کے راستے
اُس نے آنا ہی نہیں تھا اِس محلے کی طرف
ہم سجاتے ہی رہے بے سود گھر کے راستے
ابرِ رحمت اب کے حیدر بن گیا جیسے عذاب
کردیئے برسات نے مسدود گھر کے راستے
2 couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book SULAGTE KHAWAB
Sulagte Khawab is online at many links...here are the 2 links to reach the book.
اور

Comments
Post a Comment