خوابوں کے جزیرے سےبلاتا ہی رہا وہ /اب وہ بھی مجھے شعبدے لفظوں کے دکھائے 2شعر،1 پوسٹر)


couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book SULAGTE KHAWAB in 1 poster

حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "سلگتے خواب" کی ایک غزل کے 2 اشعارکا پوسٹر 

اک یاد کا منظر سا خلاؤں پہ لکھا تھا
جب ٹوٹتے تاروں سے کوئی جھانک رہا تھا

ہر چہرے پہ تھی ثبت شناسائی کی تحریر
میں اجنبی لوگوں کے قبیلے میں گھِرا تھا

خوابوں کے جزیرے سے بلاتا ہی رہا وہ
میں اپنے کنارے سے اُتر بھی نہ سکا تھا

اب وہ بھی مجھے شعبدے لفظوں کے دکھائے
وہ جو مِری خاموش محبت کی صدا تھا

جو بخش گیا صدیوں کی مہکی ہوئی سوچیں
اک لمحہء گزراں یا کوئی موجِ ہوا تھا

تُو جس کے لئے خود کو بھلا بیٹھا تھا حیدر
کیا اُس نے بھی بُھولے سے تجھے یاد کیا تھا


2 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book SULAGTE KHAWAB

Sulagte Khawab is online at many links...here are the 2 links to reach the book.

 اور

Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)

ٹوٹتے،گرتے ہوئے گھر نہیں دیکھے جاتے - بد دعا جیسے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے (9 اشعار#3 پوسٹر)