نہیں تو صرف مِرے حال سے نہیں واقف/فرشتے کیسے کریں گے حساب پھر اس کا 2 شعروں کا پوسٹر)


couplets of Haider Qureshi's ghazal from his second poetry book UMR e GUREZAN.

حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "عمرِ گریزاں " کی ایک غزل کے دواشعار کا پوسٹر 

یہ دل کہ تجھ سے جو راز و نیاز رکھتا ہے
ترے حریف سے بھی ساز باز رکھتا ہے

قریشِ مکہ میں ہو یا مدینہ والوں میں
فقیر نسبتِ ارضِ حجاز رکھتا ہے

وہ پہلے دیتا ہے ترغیب پاس آنے کی
قریب آنے سے پھر خود ہی باز رکھتا ہے

ستم ظریف پہ غصہ بھی تو نہیں آتا
زباں کا تیز ہے پر دل گداز رکھتا ہے

نہیں تو صرف مِرے حال سے نہیں واقف
وہ بے خبر جو جہاں بھر کے راز رکھتا ہے

فرشتے کیسے کریں گے حساب پھر اس کا 
ہر اک گناہ کا حیدر جواز رکھتا ہے



2 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his second poetry book UMR e GUREZAN.

Book Umr e Gurezan is available at this link

https://drive.google.com/file/d/0B_xQnk75odj9SW9EbW9DMWUxZEU/view?usp=drivesdk&resourcekey=0-urfZyWjXrVyGSJj_EEwEBA

Umre Gurezan is also available at this Archive link

https://archive.org/details/UmreGurezaN/mode/2up

Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)

ٹوٹتے،گرتے ہوئے گھر نہیں دیکھے جاتے - بد دعا جیسے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے (9 اشعار#3 پوسٹر)