فاصلہ سا کچھ ہمارے درمیاں ہونے کو ہے/کاروبارِ عشق سے مل جائیں گی پھر فرصتیں(2شعروں کا پوسٹر)


couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book SULAGTE KHAWAB in 2 poster

 حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "سلگتے خواب" کی ایک غزل کے دواشعار کا پوسٹر

فاصلہ سا کچھ ہمارے درمیاں ہونے کو ہے

یعنی تھوڑا فائدہ،تھوڑا زیاں ہونے کو ہے

کاروبارِ عشق سے مل جائیں گی پھر فرصتیں

چند برسوں تک مِرا بیٹا جواں ہونے کو ہے


 

2 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book SULAGTE KHAWAB

Sulagte Khawab is online at many links...here are the 2 links to reach the book.

اور


Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)

ٹوٹتے،گرتے ہوئے گھر نہیں دیکھے جاتے - بد دعا جیسے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے (9 اشعار#3 پوسٹر)