عجیب کرب و بلا کی ہے رات آنکھوں میں (غزل کے چھ اشعار کے 3 پوسٹرز)


6 couplet of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book SULAGTE KHAWAB in 3 posters

حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "سلگتے خواب" کی ایک غزل کے چھ اشعار تین پوسٹرز میں 

عجیب کرب و بلا کی ہے رات آنکھوں میں 
سسکتی پیاس لبوں پر فرات آنکھوں میں 
پھر اس کو دامنِ دِل میں کہاں کہاں رکھیں 
سمیٹ سکتے ہیں جو کائنات آنکھوں میں 
تمہیں تو گردشِ دوراں نے روند ڈالا ہے
رہی نہ کوئی بھی پہلی سی بات آنکھوں میں 
قطار وار ستاروں کی جگمگاہٹ سے 
سجا کے لائے ہیں غم کی برات آنکھوں میں 
وہ بے وفا کبھی اتنا بھی کب تھا بے گانہ
نہ بے رُخی‘ نہ کوئی التفات آنکھوں میں 
بکھر گئے ہیں مِلن کے تمام دن حیدر 
ٹھہر گئی ہے جدائی کی رات آنکھوں میں 



 5 couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book SULAGTE KHAWAB

Sulagte Khawab is online at many links...here are the 2 links to reach the book.




 

Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)

ٹوٹتے،گرتے ہوئے گھر نہیں دیکھے جاتے - بد دعا جیسے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے (9 اشعار#3 پوسٹر)