آنکھوں سے تیری یاد کے منظر اتار کے (ایک غزل#4 اشعار# 2 پوسٹر)
4 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book SULAGTE KHAWAB in 2 posters
حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "سلگتے خواب" کی ایک غزل کے چاراشعارکے دو پوسٹر
آنکھوں سے تیری یاد کے منظر اتار کے
سوچا ہے دُور جاؤں کسی دیس پار کے
سانسوں میں جم گیا ہے جدائی کی شب کا خوں
لمحے ٹھہر گئے ہیں ترے انتظار کے
ساری فضا پہ چھا گئے چمگادڑوں کے غول
آخر غروب ہو گیا سورج بھی ہار کے
حیدر خزاں کے ظلم کے ماتم سے کیا ملا
گلشن سجاؤ. جوڑ کے ٹکڑے بہار کے
٭٭٭
عکاس ۔خان پور۔دسمبر 1981ء
1981ء کے "عکاس" میں چھپنے والی یہ غزل کسی شعری مجموعے میں شامل نہیں تھی۔چھٹے شعری مجموعے "زندگی" کے آخر میں اس غزل سمیت چند پرانی غزلوں کو شامل کر لیا ہے۔
- 4 couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book SULAGTE KHAWAB
Sulagte Khawab is online at many links...here are the 2 links to reach the book.
اور


Comments
Post a Comment