افلاک کی لگن میں زمیں کے نہیں رہے- یارانِ تیز گام کہیں کے نہیں رہے(4شعر#2پوسٹر)
4 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book ZINDGI
حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "زندگی" کی ایک غزل کے چار شعروں کے دو پوسٹر
افلاک کی لگن میں زمیں کے نہیں رہے
یارانِ تیز گام کہیں کے نہیں رہے
دنیا سمیٹنے میں ہی دنیا سے کٹ گئے
جب دین کو سمجھ گئے دیں کے نہیں رہے
دل کی زمیں کو چاند ستاروں سے بھر لیا
ہم صرف ایک ماہ جبیں کے نہیں رہے
حُسنِ ازل کی چاہ میں بھٹکے ہیں جابجا
ویسے تو ہم کسی بھی حسیں کے نہیں رہے
دو گز کی ایک قبر بھی قسمت کی دین سے
باقی مکاں کسی بھی مکیں کے نہیں رہے
صحراؤں میں بھی رونقیں شہروں کی آگئیں
ہم بادیہ نشیں تو کہیں کے نہیں رہے
قدموں سے حیدر اُن کے لپٹتے ہیں اس طرح
جیسے یہ سجدے میری جبیں کے نہیں رہے
4 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 6th poetry book ZINDGI
ZINDGI is online at these links
اور


Comments
Post a Comment