تمہارے عشق میں کس کس طرح خراب ہوئے / رہا نہ عالمِ ہجراں، نہ وصل یاب ہوئے (5شعر#2پوسٹر)

 

5 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book SULAGTE KHAWAB in 2 posters

 حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "سلگتے خواب" کی ایک غزل کے پانچ اشعارکے دو پوسٹر

تمہارے عشق میں کس کس طرح خراب ہوئے 
رہا نہ عالمِ ہجراں، نہ وصل یاب ہوئے 

بس اتنی بات تھی دو دل کبھی نہ مل پائیں
کہیں پہ تپتے ہوئے تھل، کہیں چناب ہوئے

عجب سزا ہے کہ میرے دعاؤں والے حروف
نہ مسترد ہوئے اب تک، نہ مستجاب ہوئے

ذہانتیں تھیں تری یا اناڑی پن اپنا
سوالِ وصل سے پہلے ہی لاجواب ہوئے 

حقیقت اتنی ہے اُس کے مِرے تعلق کی
کسی کے دکھ تھے مِرے نام انتساب ہوئے

جسے سمجھتے تھے صحرا وہ اک سمندر تھا
کھلا وہ شخص تو ہم کیسے آب آب ہوئے

نہ آیا ڈھنگ ہمیں کوئی عشق کا حیدر
نہ دل کے زخموں کے ہم سے کبھی حساب ہوئے




5 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book SULAGTE KHAWAB

Sulagte Khawab is online at many links...here are the 2 links to reach the book.

 اور

Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)

ٹوٹتے،گرتے ہوئے گھر نہیں دیکھے جاتے - بد دعا جیسے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے (9 اشعار#3 پوسٹر)