نہ کسی کے دَم،نہ عصا میں ہے- جو کمال تیری ادا میں ہے(5 شعروں کے دو پوسٹر)


5 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book UMR e GUREZAN, in 2 posters

 حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "عمرِ گریزاں" کی ایک غزل کے پانچ اشعارکے دو پوسٹر

نہ کسی کے دَم، نہ عصا میں ہے
جو کمال تیری ادا میں ہے

اِسے کون ہے جو بُجھا سکے
یہ چراغ اپنی ہوا میں ہے

جو اثر ہے اُس کی نگاہ میں 
نہ دوا میں ہے، نہ دعا میں ہے

جو مزہ ہے میرے سوال میں
کہاں اُس کے دستِ عطا میں ہے

مجھے ہر گنہ کی جزا ملی
وہ شرافتوں کی سزا میں ہے

نہ فلک پہ ہے نہ زمین پر

مِری رُوح جیسے خلا میں ہے



 


5 couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book Umre Gurezan

UMR e GUREZAN is online at many links...here are the 2 links to reach the book.

Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

یہ واقعہ ہوا اپنے وقوع سے پہلے - کہ اختتامِ سفر تھا ، شروع سے پہلے(سات اشعار کے تین پوسٹر)

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)