اس دربار میں لازم تھا اپنے سر کو خم کرتے (ایک غزل/6 شعر#2 پوسٹر)
6 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book DARD SUMANDAR in 2 posters
حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "درد سمندر" کی ایک غزل کے چھ شعروں کے دو پوسٹر
اس دربار میں لازم تھا اپنے سر کو خم کرتے
ورنہ کم از کم ۔اپنی آواز ہی۔ مدھم کرتے
اس کی انا تسکین نہےں پاتی خالی لفظوں سے
شاید کچھ ہوجاتا اثر، تم گریہء پیہم کرتے
سیکھ لیا ہے آخر ہم نے عشق میں خوش خوش رہنا
درد کو اپنی دوا بناتے،۔۔زخم کو مرہم کرتے
کام ہمارے حصے کے سب کرگیا قیس دوانہ
کونسا ایسا کام تھا باقی جس کو اب ہم کرتے
ہر جانے وا لے کو دیکھ کے رکھ لیا دل پر پتھر
کس کس کو روتے آخر،کس کس کا ماتم کرتے
دل تو ہمارا۔ جیسے پتھر سے بھی سخت ہوا تھا
پتھر پانی ہو گیا،سوکھی آنکھوں کو نم کرتے
بن جاتا تریاق اسی کا زہر اگر تم حیدر
کوئی آیت پیار کی پڑھتے اور اس پر دَم کرتے
6 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 5th poetry book DARD SUMANDAR
DARD SUMANDAR is online at these links
اور


Comments
Post a Comment