وجود میرا اگر اُس پہ منکشف ہو جائے / مجھے یقین ہے وہ خود سے منحرف ہو جائے (6شعر#2پوسٹر)



6 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book SULAGTE KHAWAB in 2 posters

 حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "سلگتے خواب" کی ایک غزل کے چھ اشعارکے دو پوسٹر

وجود میرا اگر اُس پہ منکشف ہو جائے
مجھے یقین ہے وہ خود سے منحرف ہو جائے 

میں روشنی ہوں تو اُترا ہوں روح تک اُس کی
وہ آئنہ ہے تو پھر مجھ پہ منعطف ہو جائے 

جو منہ سے بنتا ہے منکر مِرا اُسے کہہ دو
کہ حوصلہ ہے تو دل سے بھی منحرف ہو جائے 

وہ یوں نہ ترکِ تعلق کا خط بھی لکھ پایا
کہ لکھتے وقت کہیں خط نہ مختلف ہو جائے 

بھٹکتا پھرتا ہے پھر کیوں مِرے خیالوں میں
وہ خود پسند ہے تو خود میں معتکف ہو جائے

نہ اعتراف بھی حیدر کبھی کریں دونوں
اور اپنے پیار کی دنیا بھی معترف ہو جائے 




 


6 couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book SULAGTE KHAWAB

Sulagte Khawab is online at many links...here are the 2 links to reach the book.

 اور

Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)

ٹوٹتے،گرتے ہوئے گھر نہیں دیکھے جاتے - بد دعا جیسے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے (9 اشعار#3 پوسٹر)