وصل کی تفہیم،تفریقِ ہوس کرتے ہوئے - مان ہی جائے گا آخر پیش و پس کرتے ہوئے(6اشعار#2پوسٹر)

6 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book ZINDGI

حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "زندگی" کی ایک غزل کے چھ شعروں کے دو پوسٹر


وصل کی تفہیم،تفریقِ ہوس کرتے ہوئے
مان ہی جائے گا آخر پیش و پس کرتے ہوئے

آنکھ سے اوجھل کیا،اذنِ سفر دے کر ہمیں
اور دل میں رکھ لیا،دل کو قفس کرتے ہوئے

پختگی ایمان میں آئی ہے پہلے سے سوا
دشمنِ ایماں کو اپنا ہم نفس کرتے ہوئے

فون سے بھی اس کے ہونٹوں کا اثر آیا سدا
گھولتا ہے کان میں ،لفظوں کو، رَس کرتے ہوئے

پھیلتی جاتی ہے اس کے لمس کی دل میں دھنک
اُس نے دیکھااس طرح نظروں سے مَس کرتے ہوئے

عمر کی ناپائیداری کا بھی کچھ تو سوچتے
وصل کی تاریخ کو اگلے برس کرتے ہوئے

آخری منزل سمجھ کر ،جسم و جاں کا قافلہ
رُک رہا ہے، بند آوازِ جرس کرتے ہوئے

اب نہ وہ زورِ بیاں حیدر ،نہ اب وہ رات دن
پھر شروع ہوجانا اک قصہ کو بس کرتے ہوئے 



 


6 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 6th poetry book ZINDGI

ZINDGI is online at these links


اور

Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)

ٹوٹتے،گرتے ہوئے گھر نہیں دیکھے جاتے - بد دعا جیسے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے (9 اشعار#3 پوسٹر)