تم نے کبھی زخموں کے نگینے نہیں دیکھے/ عشاق کے دہکے ہوئے سینے نہیں دیکھے(6شعر#2پوسٹر)


6 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book SULAGTE KHAWAB in 2 posters

 حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "سلگتے خواب" کی ایک غزل کے چھ اشعارکے دو پوسٹر

تم نے کبھی زخموں کے نگینے نہیں دیکھے
عشاق کے دہکے ہوئے سینے نہیں دیکھے

لہروں سے پتہ پوچھتے پھرتے تھے بھنور کا
دریا نے کبھی ایسے سفینے نہیں دیکھے 

اُس نے تو دکھائے تھے کئی خواب کے منظر
نادان تھے ہم آپ ہمی نے نہیں دیکھے

ہے ماہِ شبِ ہجر بھی وہ ماہِ وصالاں
یوں جمع کبھی دونوں مہینے نہیں دیکھے

الزام سبھی تیرے سجا لیتے ہیں خود پر
ہم جیسے زمانے نے کمینے نہیں دیکھے

وہ بھید، وہ اَسرار کھُلے مجھ پہ بدن کے
دنیا میں ابھی تک جو کسی نے نہیں دیکھے

کیا دامنِ دل بھرتا کہ حیدر کے جہاں پر

کشکول بھی آنکھوں کے سخی نے نہیں دیکھے



 


6 couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book SULAGTE KHAWAB

Sulagte Khawab is online at many links...here are the 2 links to reach the book.

 اور

Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)

ٹوٹتے،گرتے ہوئے گھر نہیں دیکھے جاتے - بد دعا جیسے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے (9 اشعار#3 پوسٹر)