شہرِ غم کے امیر بھی ہم ہیں/ اور تیرے فقیر بھی ہم ہیں(6شعر#2پوسٹر)

 

6 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book SULAGTE KHAWAB in 2 posters

 حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "سلگتے خواب" کی ایک غزل کے چھ اشعارکے دو پوسٹر

شہرِ غم کے امیر بھی ہم ہیں
اور تیرے فقیر بھی ہم ہیں

سخت پتھر سہی تمہارا دل 
لیکن اس پر لکیر بھی ہم ہیں

تیرا انکار بھی ہمِیں کو ہے
اور تیرے اَسیر بھی ہم ہیں

کل ہمیں خود عظیم مانے گا
آج بے شک حقیر بھی ہم ہیں

بھید اپنے فقط ہمیں جانیں
اپنے منکر نکیر بھی ہم ہیں

جب سے حیدر ہوئے مرید ان کے 

تب سے پِےروں کے پِےر بھی ہم ہیں




6 couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book SULAGTE KHAWAB

Sulagte Khawab is online at many links...here are the 2 links to reach the book.

 اور

Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)

ٹوٹتے،گرتے ہوئے گھر نہیں دیکھے جاتے - بد دعا جیسے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے (9 اشعار#3 پوسٹر)