تمہاری شوخی،مِری خوش خیالیاں بھی گئیں(6 شعروں کے دو پوسٹر)


6 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book UMR e GUREZAN, in 2 posters

 حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "عمرِ گریزاں" کی ایک غزل کے چھ اشعارکے دو پوسٹر

تمہاری شوخی، مِری خوش خیالیاں بھی گئیں
وہ وَلولے بھی گئے لاابالیاں بھی گئیں

کچھ ایسے ٹوٹ کے ملنا کہ ایک ہو جانا
محبتیں وہ ہماری نرالیاں بھی گئیں

جنہیں میں چاہتا تھا شادیاں کرا بیٹھیں
جو پیار کرتی تھیں وہ پیار والیاں بھی گئیں

نہ انتظار کا شوق اب نہ رَتجگوں کی بہار
وہ آرزوئیں وہ آنکھوں کی لالیاں بھی گئیں

یہ کیسی وقت کی آندھی بدن پہ آئی ہے
کہ پھول پتے تو کیا میری ڈالیاں بھی گئیں

قویٰ جو ڈھیلے پڑے اعتدال آنے لگا
جوانی ڈھلتے ہی بے اعتدالیاں بھی گئیں

بچی ہوئی تھیں جو دوچار خواہشیں حیدر
لو آج دل سے ہمارے وہ سالیاں بھی گئیں




6 couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book Umre Gurezan

UMR e GUREZAN is online at many links...here are the 2 links to reach the book.

 


 

Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)

ٹوٹتے،گرتے ہوئے گھر نہیں دیکھے جاتے - بد دعا جیسے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے (9 اشعار#3 پوسٹر)