جیسی بھی ہے اس دنیا سے کٹ کر نہیں رہنا -جب پیار بڑھانا ہے تو ڈٹ کر نہیں رہنا(7 اشعار# 3 پوسٹر)


7 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book ZINDGI

حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "زندگی" کی ایک غزل کے سات شعروں کے تین پوسٹر

جیسی بھی ہے اس دنیا سے کٹ کر نہیں رہنا 
جب پیار بڑھانا ہے تو ڈٹ کر نہیں رہنا

دُوری بھی مٹانی ہے محبت کے سفر میں
اک حد کو بھی رکھنا ہے،لپٹ کر نہیں رہنا

اپنوں کو تو کچھ اور بھی نزدیک کریں گے
سوچا ہے کہ غیروں سے بھی ہٹ کر نہیں رہنا

لازم ہے سنا جائے کھلے ذہن سے سب کو
اپنے ہی خیالات میں اَٹ کر نہیں رہنا

جتنا ہوں حقیقت میں ، وہی دِکھنا ہے مجھ کو
اوروں کے لیے بڑھ کے یا گھٹ کر نہیں رہنا

کچھ اپنے دل و ذہن کو نزدیک کیا ہے 
اندر بھی زیادہ ہمیں بٹ کر نہیں رہنا

رہنا ہے بہر حال یہیں پر ہمیں حیدر 
دنیا سے مگر اتنا چمٹ کر نہیں رہنا


 



couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 6th poetry book ZINDGI

ZINDGI is online at these links


اور

Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)

ٹوٹتے،گرتے ہوئے گھر نہیں دیکھے جاتے - بد دعا جیسے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے (9 اشعار#3 پوسٹر)