جب تیر چل گیا تو کماں بھی نہیں رہی (8اشعار#4پوسٹر)
8 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book SULAGTE KHAWAB in 4 posters
حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "سلگتے خواب" کی ایک غزل کے آٹھ اشعارکے چار پوسٹر
جب تِیر چل گیا تو کماں بھی نہیں رہی
لگتا تھا جیسے جسم میں جاں بھی نہیں رہی
سارے حَسِین بیچتے پھرتے ہیں شہر میں
جنسِ وفا اب ایسی گراں بھی نہیں رہی
وہ مسکرا کے پوچھتے تھے مدعائے دل
اور اپنے منہ میں جیسے زباں بھی نہیں رہی
خواہش وصالِ یار کی زندہ ہے آج بھی
لیکن یہ پہلے جیسی جواں بھی نہیں رہی
اُس سے بچھڑ کے آئینہ دیکھا تو یوں لگا
ہاتھوں میں اپنے عمرِ رواں بھی نہیں رہی
شہرِ ستمگراں میں پنہ ڈھونڈئیے کہیں
شہرِ اماں میں جائے اماں بھی نہیں رہی
اُس کے لبوں پہ میری محبت کے واسطے
اِنکار بھی نہیں تھا تو ہاں بھی نہیں رہی
رسمِ وفا تو اگلے زمانوں کی بات ہے
اب اپنے بیچ رسمِ جہاں بھی نہیں رہی
حیدر اب اپنی عادتیں، اَطوار ٹھیک کر
ابا بھی چل بسے‘ تری ماں بھی نہیں رہی
6 couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book SULAGTE KHAWAB
Sulagte Khawab is online at many links...here are the 2 links to reach the book.
اور


.jpg)

Comments
Post a Comment