ترا مقصود ہو کر رہ گیا ہے - یہ دل محدود ہو کر رہ گیا (9 اشعار کے 3 پوسٹرز)
9 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book ZINDGI
حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "زندگی" کی ایک غزل کے 9 شعروں کے 3 پوسٹر
ترا مقصود ہو کر رہ گیا ہے
یہ دل محدود ہو کر رہ گیا ہے
جو ناموجودیت میں بیکراں تھا
وہ بس موجود ہو کر رہ گیا ہے
جہاں ملنے تھے اپنے دل،وہ رستہ
بہت مسدود ہو کر رہ گیا ہے
زیاں کے شوق میں نکلے تھے لیکن
زیاں بھی سود ہو کر رہ گیا ہے
بڑی ”مقبولیت“ حاصل تھی اس کو
بڑا مردود ہو کر رہ گیا ہے
کسی پر آگ ٹھنڈی ہو گئی ہے
کوئی نمرود ہو کر رہ گیا ہے
سدا انکار تھی پہچان جس کی
سراپا جُود ہو کر رہ گیا ہے
بہت ہی پیار وہ کرتا ہے مجھ سے
وہ کب معبود ہو کر رہ گیا ہے
کبھی شعلہء. جوّالہ تھا، حیدر
یہ دل اب دُود ہو کر رہ گیا ہے
9 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 6th poetry book ZINDGI
ZINDGI is online at these links
اور


