رقص کناں ہے جس کے اندر ازل، ابد کا مور- وہ ہے اک بے انت خلا سا جس کی اور نہ چھور(9اشعار#3پوسٹر)


9 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book ZINDGI

حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "زندگی" کی ایک غزل کے 9 شعروں کے 3 پوسٹر

*بہ فیض بلہے شاہ*

رقص کناں ہے جس کے اندر ازل، ابد کا مور
وہ ہے اک بے انت خلا سا جس کی اور نہ چھور

اک دل کا پھیلا صحرا ، خاموشی سے معمور
اک کم ظرف سمندر ،جس میں خالی خولی شور

سارے حوالے برکت والے نور بھرے دربار
کوٹ مٹھن،اجمیر شریف اور دہلی ، اور لاہور

حال،دھمال سے تن من روشن،روشن ہو گئی جان
جگمگ کر اٹھی ہو جیسے ایک اندھیری گور

اپنی اڑانیں، ساری شانیں،تیرے دَم سے یار
تیرے ہاتھ ہوائیں ساری تیرے ہاتھ میں ڈور

رشتے ناطے اور تعلق کیسے میرے یار
کب کچھ مان کسی پر اپنا، کب کچھ اپنا زور

مَن سے لے کر بُکل تک ہوں ویران و حیران 
چوری کرناچھوڑ گئے ہیں میرے سارے چور

سات سمندر سے تو اپنے پاپ نہےں دُھل پائے
تو ہی بھیج اب دل کے صحرا کوئی گھٹا گھنگھور

حیدر. نے پہچان کے تجھ کو جانا تیرا بھید 
”بلہے شاہ اساں مرنا ناہیں، گور پئے کوئی ہور“


 




9 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 6th poetry book ZINDGI

ZINDGI is online at these links


اور

Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

یہ واقعہ ہوا اپنے وقوع سے پہلے - کہ اختتامِ سفر تھا ، شروع سے پہلے(سات اشعار کے تین پوسٹر)

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)