جو بس میں ہے وہ کر جانا ضروری ہو گیا ہے (اس غزل کے چھ اشعار کے پانچ پوسٹرز )


Haider Qureshi's complete ghazal from DARD SUMANSAR

 حیدرقریشی کے شعری مجموعہ"درد سمندر" میں شامل غزل

جو بَس میں ہے وہ کر جانا ضروری ہو گیا ہے
تری چاہت میں مَر جانا ضروری ہو گیا ہے
ہمیں تو اب کسی اگلی محبت کے سفر پر
نہیں جانا تھا‘ پر جانا ضروری ہو گیا ہے
ستارا جب مِرا گردش سے باہر آرہا ہے
تو پھر دل کا ٹھہر جانا ضروری ہو گیا ہے
درختوں پر پرندے لَوٹ آنا چاہتے ہیں 
خزاں رُت کا گزر جانا ضروری ہو گیا ہے
اندھیرا اِس قدر گہرا گیا ہے دل کے اندر
کوئی سورج اُبھر جانا ضروری ہو گیا ہے
بہت مشکل ہوا اندر کے ریزوں کو چھپانا
سو اب اپنا بکھر جانا ضروری ہو گیا ہے
تجھے میں اپنے ہر دُکھ سے بچانا چاہتا ہوں
ترے دل سے اُتر جانا ضروری ہو گیا ہے
نئے زخموں کا حق بنتا ہے اب اِس دل پہ حیدرؔ 
پُرانے زخم بھر جانا ضروری ہو گیا ہے










  6 couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 5th poetry book DARD SUMANDAR.
Dard Sumandar is online at many links...here are the 2 links to reach the book.



Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)

ٹوٹتے،گرتے ہوئے گھر نہیں دیکھے جاتے - بد دعا جیسے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے (9 اشعار#3 پوسٹر)