گرچہ ہمیں ہے پہلے بھی اک زک لگی ہوئی (ایک غزل کے چار اشعار کے دو پوسٹرز)
4 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his second poetry book UMR e GUREZAN.
حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "عمرِ گریزاں " کی ایک غزل کے چار شعروں کے دو پوسٹرز
گرچہ ہمیں ہے پہلے بھی اک زک لگی ہوئی
لیکن گئی نہ یاس سے چشمک لگی ہوئی
ہر آن ہے گمان کہ شاید وہ آگئے
دھڑکن ہے دل کی یا کوئی دستک لگی ہوئی
پڑتا ہے یوں تو حُسن پہ اِس کا اثر مگر
اچھی لگی ہے آپ کو عینک لگی ہوئی
حیدر مذاق مت اِسے سمجھو یہ عشق ہے
بازی ہے اِس میں پا ؤں سے سر تک لگی ہوئی
٭٭٭
4 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his second poetry book UMR e GUREZAN.
Book Umr e Gurezan is available at this link
Umre Gurezan is also available at this Archive link
https://archive.org/details/UmreGurezaN/mode/2up


Comments
Post a Comment