خود اپنے ہونٹوں پہ صدیوں کی پیاس رکھتاہے (غزل کے پانچ شعروں کے تین پوسٹرز)

 

5 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book SULAGTE KHAWAB in 3 posters

 حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "سلگتے خواب" کی ایک غزل کے پانچ اشعار تین پوسٹرز میں 

خود اپنے ہونٹوں پہ صدیوں کی پیاس رکھتاہے 
وہ ایک شخص جو مجھ کو اُداس رکھتا ہے

نہیں وہ رنگ پہ رنگوں سا عکس ہے اُس کا
نہیں وہ پھول پہ پھولوں سی باس رکھتا ہے

یہ اور بات کہ اِقرار کر نہیں پاتا
مگر وہ دل تو محبت شناس رکھتا ہے

نہیں ہے کوئی بھی اُمید جس کے آنے کی 
دل اُس کے آنے کے سوسو قیاس رکھتاہے

جو تجھ کو ملنے سے پہلے بچھڑگیا حیدر
تُو کس طرح اُسے پانے کی آس رکھتا ہے 






5 couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book SULAGTE KHAWAB

Sulagte Khawab is online at many links...here are the 2 links to reach the book.

اور



Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)

ٹوٹتے،گرتے ہوئے گھر نہیں دیکھے جاتے - بد دعا جیسے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے (9 اشعار#3 پوسٹر)