پیاسے سمندروں کی طرح تَیرتے رہے (ایک غزل کے چھ اشعار کے تین پوسٹرز)

6 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book SULAGTE KHAWAB in 3 posters

حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "سلگتے خواب" کی ایک غزل کے چھ اشعار تین پوسٹرز میں 

 پیاسے سمندروں کی طرح تَیرتے رہے 

اپنے مقدّروں کا لکھا سوچتے رہے 


شب بھر اُتارتے رہے پلکوں پہ چاندنی
تم بوند بوند روشنی میں ڈوبتے رہے 

جاگے ہیں میرے ذہن میں جب بھی ترے خیال 
خوابوں کے شہر بنتے رہے، ٹوٹتے رہے 

خاموشیوں کے لب پہ کوئی گیت تھا رواں 
گہری اداسیوں کے کنول جھومتے رہے

رقصاں تھی اِس طرح تری یادوں کی آبشار
کہسار دل کے، جھانجھروں سے گونجتے رہے 

تھی کتنے موسموں کی مہک اُس کے جسم میں 
سانسوں کی تیز آنچ میں ہم بھیگتے رہے 






 5 couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book SULAGTE KHAWAB

Sulagte Khawab is online at many links...here are the 2 links to reach the book.






Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

یہ واقعہ ہوا اپنے وقوع سے پہلے - کہ اختتامِ سفر تھا ، شروع سے پہلے(سات اشعار کے تین پوسٹر)

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)