بہت چالاک ہوتے جا رہے ہو (غزل کے تین اشعار کا پوسٹر)


3 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book SULAGTE KHAWAB in 1 posters

 حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "سلگتے خواب" کی ایک غزل کے تین اشعارکا پوسٹر

بہت چالاک ہوتے جا رہے ہو
بڑے بے باک ہوتے جا رہے ہو

تجاوز مت کرو حدّ گماں سے 
یقیں، ادراک ہوتے جا رہے ہو

دلوں کا خون کرنے لگ گئے ہو
بڑے سفّاک ہوتے جا رہے ہو

کہاں ہے وہ تمہاری خوش لباسی
گریباں چاک ہوتے جا رہے ہو

دُکھوں کی آگ میں جلتے رہو، اور
سمجھ لو پاک ہوتے جا رہے ہو

نہ آندھی ہے نہ کوئی سیل پھر بھی
خس و خاشاک ہوتے جا رہے ہو

کبھی تم چاند سے بڑھ کر تھے حیدر
مگر اب خاک ہوتے جا رہے ہو


couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book SULAGTE KHAWAB

Sulagte Khawab is online at many links...here are the 2 links to reach the book.

 اور

Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)

ٹوٹتے،گرتے ہوئے گھر نہیں دیکھے جاتے - بد دعا جیسے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے (9 اشعار#3 پوسٹر)