اداس لمحوں کے ہونٹوں میں تازگی بھر دو(چار شعروں کے دوپوسٹر)
4 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book SULAGTE KHAWAB in 2 posters
حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "سلگتے خواب" کی ایک غزل کے چار اشعار دوپوسٹرز میں
اداس لمحوں کے ہونٹوں میں تازگی بھر دو
بجھے ہوئے مِرے چہرے میں روشنی بھر دو
میں اپنے ”ہونے“ کے احساس سے ہراساں ہوں
مِرے شعور میں کچھ کیفِ بے خودی بھردو
کنواری رات کے سینے سے کھینچ کر آنچل
اُفق کی زردیوں میں حُسنِ تِےرگی بھردو
وہ جب خلوص کی قیمت چُکانے آیا ہے
تو میرے ذہن میں بھی رنگِ تاجری بھر دو
چلو پھر آنکھیں کرو چار موت سے حیدر
پھر آج موت کی آنکھوں میں زندگی بھر دو
4 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book SULAGTE KHAWAB
Sulagte Khawab is online at many links...here are the 2 links to reach the book.
اور


Comments
Post a Comment