خوشی حد سے زیادہ دے کے بھی برباد کرتا ہے (چھ اشعار کے دو پوسٹر)

 

6 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book SULAGTE KHAWAB in 2 posters

 حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "سلگتے خواب" کی ایک غزل کے چھ اشعارکے دو پوسٹر

خوشی حد سے زیادہ دے کے بھی برباد کرتاہے
انوکھے ہی ستم دل پر، ستم ایجاد کرتا ہے 

تماشہ سا تماشہ ہی بنا ڈالا مجھے اس نے 
کبھی وہ قید کرتاہے، کبھی آزاد کرتا ہے

عجب اب کے طلسمِ خامشی طاری کیا اُس نے
وہ جادوگر نہ کچھ سنتا نہ کچھ ارشاد کرتا ہے

سزایوں مل رہی ہے مجھ کو میرے نیک عملوں کی 
گنہ سب میرے حصے کے مِرا ہمزاد کرتاہے

یہی وہ خانماں ویراں ہے جس کو عشق کہتے ہیں
دلوں میں بستیاں غم کی یہی آباد کرتا ہے

عجب بے کیف سی ہے زندگی پچھلے مہینے سے
نہ کوئی یاد آتا ہے نہ کوئی یاد کرتا ہے 

ستم گر حوصلے کی داد تو دینے لگا حیدر
اگرچہ داد میں بھی وہ مجھے بے داد کرتا ہے




6 couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book SULAGTE KHAWAB

Sulagte Khawab is online at many links...here are the 2 links to reach the book.

 اور


Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)

ٹوٹتے،گرتے ہوئے گھر نہیں دیکھے جاتے - بد دعا جیسے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے (9 اشعار#3 پوسٹر)