دریا کہ نہر میں ہوں - پر اپنی لہر میں ہوں (پانچ اشعار کے تین پوسٹر)


couplet of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book DUAA e DIL

حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "دعائے دل" کی ایک غزل کے پانچ شعروں کے تین پوسٹر 

دریا کہ نہر میں ہوں
پر اپنی لہر میں ہوں

کہنے کو صرف پل بھر
اور سارے دہر میں ہوں

پتھر کے لوگ سارے
جادو کے شہر میں ہوں

یہ کون مہرباں ہے
یہ کس کے قہر میں ہوں

تریاق بن کے حیدر
نفرت کے زہر میں ہوں


 



couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 4th poetry book DUAA e DIL

DUAA e DIL is online at this link


 Duaa e Dil is also available at this Archive link 


Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)

ٹوٹتے،گرتے ہوئے گھر نہیں دیکھے جاتے - بد دعا جیسے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے (9 اشعار#3 پوسٹر)