میں منزلوں کی کھوج میں خود سے بچھڑ گیا(ایک غزل کے دو شعروں کا پوسٹر)


couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book SULAGTE KHAWAB in a poster

حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "سلگتے خواب" کی ذیل کی غزل کے دواشعار کا پوسٹر 


کچھ کہہ رہی ہے پھر مِری افسردگی مجھے
شاید کسی کی یاد نے چھیڑا ابھی مجھے 

میں منزلوں کی کھوج میں خود سے بچھڑ گیا
پھر عُمر بھر تلاش ہی اپنی رہی مجھے 

انجانے راستے سبھی جانے ہوئے لگے
لگتی تھی اجنبی مِری آوارگی مجھے

وسعت میں لامکان کی اب کھو چکا ہوں میں
کس نے فصیلِ وقت سے آواز دی مجھے

مرجھا چکے ہیں پھول تری یاد کے مگر 
محسوس ہو رہی ہے عجب تازگی مجھے 

دیکھا خلوص موت کا تو یاد آگیا
کتنے فریب دیتی رہی زندگی مجھے 


couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book SULAGTE KHAWAB

Sulagte Khawab is online at many links...here are the 2 links to reach the book.

اور



 

Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)

ٹوٹتے،گرتے ہوئے گھر نہیں دیکھے جاتے - بد دعا جیسے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے (9 اشعار#3 پوسٹر)