غزل :دُھند یادوں میں جیسے بھٹکتے رہے کے تین شعروں کا پوسٹر


3 coupletsof Haider Qureshi's ghazal from his poetry book Umr e Gurezan in 1 poster

حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "عمرِ گریزاں" کی ایک غزل کے تین اشعار کاپوسٹر

دُھند یادوں میں جیسے بھٹکتے رہے
وہ بھی تکتے رہے، ہم بھی تکتے رہے

ممکنہ حد تلک شب سے اُلجھے تو ہیں
جگنوؤں کی طرح گو چمکتے رہے

پتھرّوں کا اُڑاتے ہوں جیسے مذاق
آئینے ٹوٹ کر یوں کھنکتے رہے

چند لمحے وہ اُن سے ملاقات کے 
میری سانسوں میں برسوں مہکتے رہے

موت کی بھی حقیقت اُنہیں سے کھُلی
زندگی کے جو دل میں دھڑکتے رہے 


3  Couplets of Haider Qureshi's ghazal from his second poetry book UMR e GUREZAN.in 1 poster

Book Umr e Gurezan is available at this link

https://drive.google.com/file/d/0B_xQnk75odj9SW9EbW9DMWUxZEU/view?usp=drivesdk&resourcekey=0-urfZyWjXrVyGSJj_EEwEBA

Umre Gurezan is also available at this Archive link

https://archive.org/details/UmreGurezaN/mode/2up

 

Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)

ٹوٹتے،گرتے ہوئے گھر نہیں دیکھے جاتے - بد دعا جیسے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے (9 اشعار#3 پوسٹر)