موسم کی بے مہر فضا میں گرتے ہیں (غزل کے چھ شعروں کے دو پوسٹرز)


6 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book DARD SUMANDAR

حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "درد سمندر" کی ایک غزل کے چھ شعروں کے تین پوسٹر 

موسم کی بے مہر فضا میں گرتے ہیں
سوکھے پتے سرد ہوا میں گرتے ہیں

رہتی ہے پرواز کی خوش فہمی اُن کو
جو اپنے اندر کے خلا میں گرتے ہیں

گرتے ہیں تو گرتے ہی جاتے ہیں پھر
اہلِ ستم جب مکروریا میں گرتے ہیں 

گیت سناتے ہیں جھرنے کے گرنے کا 
حرف جو خاموشی کی صدا میں گرتے ہیں

تم نے وہ منظر ہی کب دیکھے ہیں، جب
درد سمندر، دل دریا میں گرتے ہیں

یا آنکھوں میں خاک برستی تھی حیدر
یا اب پیہم اَشک دُعا میں گرتے ہیں


 


6 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 5th poetry book DARD SUMANDAR

DARD SUMANDAR is online at these links


اور

Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

یہ واقعہ ہوا اپنے وقوع سے پہلے - کہ اختتامِ سفر تھا ، شروع سے پہلے(سات اشعار کے تین پوسٹر)

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)