جہاں بھر میں ہمارے عشق کی تشہیر ہو جائے (غزل کے چھ اشعار کے دو پوسٹر)
6 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book SULAGTE KHAWAB in 2 posters
حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "سلگتے خواب" کی ایک غزل کے چھ اشعارکے دو پوسٹر
جہاں بھر میں ہمارے عشق کی تشہیر ہوجائے
اُسے کس نے کہا تھا دل پہ یوں تحریر ہو جائے
میں سچا ہوں تو پھر آئے مِری تقدیر ہوجائے
میں جھوٹا ہوں تو میرے جرم کی تعزیر ہوجائے
میں اپنے خواب سے کہتا ہوں آنکھوں سے نکل آئے
ذرا آگے بڑھے اور خواب سے تعبیر ہوجائے
زباں ایسی کہ ہر اک لفظ مرہم سالگے اُس کا
نظر ایسی کہ اُٹھتے ہی دلوں میں تِیر ہو جائے
وہ ہر پَل جس میں اپنے پیار کی یادیں دھڑکتی ہیں
مِری جاگیر ہو جائے، تجھے زنجیر ہو جائے
سبب کچھ تو رہا ہوگا ترے حیدر کی حالت کا
کبھی جو بے سبب ہنس دے، کبھی دلگیر ہوجائے
6 couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book SULAGTE KHAWAB
Sulagte Khawab is online at many links...here are the 2 links to reach the book.
اور


Comments
Post a Comment