اک خواب کہ جو آنکھ بھگونے کے لیے ہے (ایک غزل #سات شعر#تین پوسٹر)

 

7 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book DARD SUMANDAR

حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "درد سمندر" کی ایک غزل کے سات شعروں کے تین پوسٹر 

اک خواب کہ جو آنکھ بھگونے کے لئے ہے
اک یاد کہ سینے مےں چبھونے کے لئے ہے

اک زخم کہ سب زخم بھلا ڈالے ہےں جس نے
اک غم کہ جو ، تا عمر بلونے کے لئے ہے

اک روح کہ سونا ہے مگر مَیل بھری بھی
اک آگ اسی مَیل کو دھونے کے لئے ہے

آنکھوں میں ابھی دھول سی لمحوں کی جمی ہے
دل مےں کوئی سیلاب سا رونے کے لئے ہے

دل کو تو بہت پہلے سے دھڑکا سا لگا تھا
پانا  ترا شاید تجھے کھونے کے لئے ہے

کشتی کا یہ ہچکولہ ،۔ یہ ۔۔ملّاح کا۔ چکّر
کشتی کو نہیں مجھ کو ڈبونے کے لئے ہے

تقدیر سے لڑ سکتا ہے کوئی کہاں حیدر 

وہ حادثہ ہونا ہے جو ہونے کے لئے ہے





7 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 5th poetry book DARD SUMANDAR

DARD SUMANDAR is online at these links


اور

Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)

ٹوٹتے،گرتے ہوئے گھر نہیں دیکھے جاتے - بد دعا جیسے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے (9 اشعار#3 پوسٹر)