خود اپنے حُسن کے نشے میں چُور لگتا ہے (ایک غزل کے چار شعروں کے دو پوسٹر)
4 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book SULAGTE KHAWAB in 2 posters
حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "سلگتے خواب" کی ایک غزل کے چھ اشعارکے دو پوسٹر
خود اپنے حُسن کے نشے میں چُور لگتا ہے
جو سر سے پاؤں تلک رنگ و نُور لگتا ہے
اُتر رہے ہیں عجب قہر فاصلے اب کے
وہ پاس آئے تو کچھ اور دُور لگتا ہے
اگرچہ رشتہ بھی اُس سے کوئی نہیں لیکن
وہ کچھ نہ کچھ تو ہمارا ضرور لگتا ہے
یہ عشق وِشق، یہ ساری محبتیں حیدر
مجھے تو سب تِرے دل کا فتور لگتا ہے
4 couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book SULAGTE KHAWAB
Sulagte Khawab is online at many links...here are the 2 links to reach the book.
اور


Comments
Post a Comment