یونہی دیکھا تھا جسے چشمِ تماشائی سے (ایک غزل کے تین شعروں کے دو پوسٹر)

 

3 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his second poetry book UMR e GUREZAN.in 2 poste

حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "عمرِ گریزاں " کی ایک غزل کے 3  اشعار کے دو پوسٹر 

یونہی دیکھا تھا جسے چشمِ تماشائی سے
اب نکلتا ہی نہیں رُوح کی گہرائی سے 

اہلِ دنیا بھلا اِس رَمز کو کیسے سمجھیں
عشق رُسوا نہیں ہوتا کبھی رُسوائی سے

متن میں آپ کا ہی ذکر چلا آتا ہے
اچھا ہے بچ کے رہیں حاشیہ آرائی سے

آخری مرحلہ اِس کھیل کا رہتا ہے ابھی
خوش نہ ہو لشکرِ اعداءمِری پسپائی سے

جو رہِ اہلِ ملامت پہ چلا جاتا ہو
مت الجھنا کبھی ایسے کسی سودائی سے 

جسم بھی اپنی جگہ زندہ حقیقت ہیں مگر 
دل نہیں ملتے فقط جسموں کی یکجائی سے 

مرحلے آئے تھے خوف اور گنہ کے پہلے
روشنی گیان کی پھر پھُوٹی تھی تنہائی سے 

بے لحاظی کا کسے دُکھ نہیں ہوتا حیدر
ہم نے شکوہ نہ کیا پر کسی ہرجائی سے 





couplets of Haider Qureshi's ghazal from his second poetry book UMR e GUREZAN.in 2 posters

Book Umr e Gurezan is available at this link

https://drive.google.com/file/d/0B_xQnk75odj9SW9EbW9DMWUxZEU/view?usp=drivesdk&resourcekey=0-urfZyWjXrVyGSJj_EEwEBA

Umre Gurezan is also available at this Archive link

https://archive.org/details/UmreGurezaN/mode/2up

Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)

ٹوٹتے،گرتے ہوئے گھر نہیں دیکھے جاتے - بد دعا جیسے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے (9 اشعار#3 پوسٹر)