درد اندر کے سب آنکھوں میں ابھر آئے تھے (چار اشعار کے دو پوسٹرز)

4 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his second poetry book UMR e GUREZAN.in 2 poste

حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "عمرِ گریزاں " کی ایک غزل کے چار اشعار کے دو پوسٹر 

درد اندر کے سب آنکھوں میں اُبھر آئے تھے
عشق میں جب ہمیں پانی کے سفر آئے تھے

شہر کی گلیوں نے چومے تھے قدم رو رو کر
جب ترے شہر سے یہ شہر بدر آئے تھے

بازگشت اپنی ہی آواز کی بننا تھا ہمیں
ہم نے کب لَوٹ کے آنا تھا مگر آئے تھے

ایک سوہنی کی پذیرائی کی خاطر حیدر
دل کے دریا میں کبھی کتنے بھنور آئے تھے




4 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his second poetry book UMR e GUREZAN.in 2 posters

Book Umr e Gurezan is available at this link

https://drive.google.com/file/d/0B_xQnk75odj9SW9EbW9DMWUxZEU/view?usp=drivesdk&resourcekey=0-urfZyWjXrVyGSJj_EEwEBA

Umre Gurezan is also available at this Archive link

https://archive.org/details/UmreGurezaN/mode/2up

Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)

ٹوٹتے،گرتے ہوئے گھر نہیں دیکھے جاتے - بد دعا جیسے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے (9 اشعار#3 پوسٹر)