اس طرح شہرِ انا پر میں تباہی مانگوں (غزل کے پانچ شعروں کے تین پوسٹرز)


5 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book SULAGTE KHAWAB in 3 posters

حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "سلگتے خواب" کی ایک غزل کے پانچ اشعار تین پوسٹرز میں 

اس طرح شہرِ اَنا پر میں تباہی مانگوں
اپنے ”ہونے“ سے ”نہ ہونے“ کی گواہی مانگوں

اُس کے ہونٹوں پہ میں پھر مہکوں تمنا بن کر
پھر وہ چاہت جو کبھی اُس نے تھی چاہی مانگوں

یہ تو ہوگا کہ میں بھڑکوں گا یا بجھ جاؤں گا
یوں سلگنے سے توبہتر ہے ہوا ہی مانگوں

اُس کو پانے کی تمنا پہ یقیں کب ہے، مگر
ہاتھ جب اُٹھ ہی گئے ہیں تو دعا ہی مانگوں

اپنی کچھ نیکیاں لکھنے کے لئے بھی حیدر
اپنے ناکردہ گناہوں سے سیاہی مانگوں 








5 couplet of Haider Qureshi's ghazal from his 1st poetry book SULAGTE KHAWAB

Sulagte Khawab is online at many links...here are the 2 links to reach the book.



Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

یہ واقعہ ہوا اپنے وقوع سے پہلے - کہ اختتامِ سفر تھا ، شروع سے پہلے(سات اشعار کے تین پوسٹر)

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)