تجھ سے اب تیری شکایت نہیں ہونے والی (ایک غزل کے چھ شعر تین پوسٹرز میں)


6 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his second poetry book UMR e GUREZAN.

حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "عمرِ گریزاں "کی ایک غزل کے 6 اشعار کے تین پوسٹرز

تجھ سے اب تیری شکایت نہیں ہونے والی
یعنی وہ پہلی سی چاہت نہیں ہونے والی

وہ تو از خود نہیں ہوسکتا ہے مائل بہ کرم
اور ہم سے بھی بغاوت نہیں ہونے والی 

اس کی تعریف میں پُل باندھ لے چاہے جتنے
پھر بھی پوری تری نیّت نہیں ہونے والی

کاسہء عشق کو اب توڑ کے باہر پھینکو
ان بخیلوں سے سخاوت نہیں ہونے والی

اپنے حق میں تُو بھلے کتنی گواہی لائے
بے گناہی سے بریت نہیں ہونے والی

کعبہئِ دل کو کہاں چھوڑ چلے ہو حیدر
تم تو کہتے تھے یہ ہجرت نہیں ہونے والی
٭٭٭



6 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his second poetry book UMR e GUREZAN.in 3 posters

Book Umr e Gurezan is available at this link

https://drive.google.com/file/d/0B_xQnk75odj9SW9EbW9DMWUxZEU/view?usp=drivesdk&resourcekey=0-urfZyWjXrVyGSJj_EEwEBA

Umre Gurezan is also available at this Archive link

https://archive.org/details/UmreGurezaN/mode/2up

Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)

ٹوٹتے،گرتے ہوئے گھر نہیں دیکھے جاتے - بد دعا جیسے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے (9 اشعار#3 پوسٹر)