دیارِ دل میں کسی نے ورود کرتے ہوئے (غزل کے چار اشعار کے دو پوسٹر)
4 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his poetry book ZINDGI
حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "زندگی" کی ایک غزل کے چار شعروں کے دو پوسٹر
دیارِ دل میں کسی نے ورُود کرتے ہوئے
بجھا دیا، ہمیں روشن وجود کرتے ہوئے
یہ میرے جسم نے کیا کھیل مجھ سے کر ڈالا
مجھے نکال دیا بے وجود کرتے ہوئے
پہنچ گئے جو کنارے کبھی تباہی کے
تو بچ کے آ گئے وردِ درُود کرتے ہوئے
کھڑے تھے شاہ کئی جھولیوں کو پھیلائے
فقیر گزرے تھے جس رہ سے جود کرتے ہوئے
کئی برس کی جدائی بھی کچھ بدل نہ سکی
وہ زُودرنج ملا، رنج زُود کرتے ہوئے
کسی کی یاد جلائی تھی جس گھڑی حیدر
فضا مہک اُٹھی صندل کو دُود کرتے ہوئے
4 couplets of Haider Qureshi's ghazal from his 6th poetry book ZINDGI
ZINDGI is online at these links
اور


Comments
Post a Comment