ہر چند ہم ایسے بھی جہاں تاب نہیں تھے (ایک غزل کے تین اشعار کے دو پوسٹر)
3 couplet of Haider Qureshi's ghazal from his second poetry book UMR e GUREZAN. in 2 posters
حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "عمرِ گریزاں " کے تین شعروں کے دو پوسٹرز
ہر چند ہم ایسے بھی جہاں تاب نہیں تھے
کب ماتھے پہ روشن کبھی مہتاب نہیں تھے
بے نام اُداسی تو ہمیشہ رہی لیکن
ہم اُس سے بچھڑکر کبھی بے تاب نہیں تھے
یہ خواب بھی تیرے تھے اِنہیں ساتھ ہی لے جا
یہ بجھتے ہوئے خواب مِرے خواب نہیں تھے
A couplet of Haider Qureshi's ghazal from his second poetry book UMR e GUREZAN.
Book Umr e Gurezan is available at this link
Umre Gurezan is also available at this Archive link

