ہر چند ہم ایسے بھی جہاں تاب نہیں تھے (ایک غزل کے تین اشعار کے دو پوسٹر)

3 couplet of Haider Qureshi's ghazal from his second poetry book UMR e GUREZAN. in 2 posters

حیدرقریشی کے شعری مجموعہ "عمرِ گریزاں " کے تین شعروں کے دو پوسٹرز


ہر چند ہم ایسے بھی جہاں تاب نہیں تھے
کب ماتھے پہ روشن کبھی مہتاب نہیں تھے 

بے نام اُداسی تو ہمیشہ رہی لیکن
ہم اُس سے بچھڑکر کبھی بے تاب نہیں تھے

یہ خواب بھی تیرے تھے اِنہیں ساتھ ہی لے جا
یہ بجھتے ہوئے خواب مِرے خواب نہیں تھے





A couplet of Haider Qureshi's ghazal from his second poetry book UMR e GUREZAN.

Book Umr e Gurezan is available at this link

https://drive.google.com/file/d/0B_xQnk75odj9SW9EbW9DMWUxZEU/view?usp=drivesdk&resourcekey=0-urfZyWjXrVyGSJj_EEwEBA

Umre Gurezan is also available at this Archive link

https://archive.org/details/UmreGurezaN/mode/2up






Comments

Popular posts from this blog

دونوں بیٹیوں کے بارے میں ایک اردو ماہیے کا پوسٹر

وہ جو ابھی تک خاک میں رُلنے والے ہیں (پانچ اشعار کی غزل کے تین پوسٹرز)

ٹوٹتے،گرتے ہوئے گھر نہیں دیکھے جاتے - بد دعا جیسے یہ منظر نہیں دیکھے جاتے (9 اشعار#3 پوسٹر)